حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) اور پری-SIR میپنگ مہم کے دوران تقریباً 30 لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج ہونے کے خدشات نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ٹی وی نائین کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اثر حیدرآباد ضلع میں پڑ سکتا ہے، جہاں 15 اسمبلی حلقوں میں مجموعی طور پر 46.79 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، لیکن ان میں سے صرف 17.17 لاکھ ووٹرز کی کامیاب میپنگ ہو سکی ہے، جبکہ تقریباً 29.6 لاکھ ووٹرز اب بھی “ان میپڈ” زمرے میں شامل ہیں۔
انتخابی حکام کے مطابق ووٹر لسٹ کی صفائی کے عمل کے دوران ڈپلیکیٹ ووٹ، ایک ہی شخص کے مختلف حلقوں میں اندراج، ہجرت کر جانے والے افراد اور فوت شدہ ووٹرز کے ناموں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس اتحاد المسلمین سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کر دیے ہیں تاکہ ووٹرز اپنے ناموں کی تصدیق کر سکیں۔
الیکشن حکام نے وضاحت کی ہے کہ کسی بھی ووٹر کا نام فوری طور پر حذف نہیں کیا جائے گا بلکہ گھر گھر تصدیق، نوٹس اور قانونی عمل مکمل کرنے کے بعد ہی کارروائی ہوگی۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹر ہیلپ لائن ایپ یا الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کے ذریعے اپنے نام کی موجودگی ضرور چیک کریں۔


