از: رفعت سلطانہ
ایم ایس سی بی ایڈ، حیدرآباد
انسانی زندگی کی بقا کا انحصار براہِ راست قدرتی ماحول پر ہے۔ زمین پر موجود تمام جانداروں کی مسلسل زندگی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے صاف، صحت مند اور متوازن ماحول بنیادی ضرورت ہے۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے قدرتی توازن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں دنیا بھر میں ہر سال 5 جون کو ’’عالمی یومِ ماحولیات‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں شعور بیدار کرنا اور فطرت کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔
زمین کو کائنات میں ایک منفرد مقام حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ واحد سیارہ ہے جہاں زندگی کا وجود پایا جاتا ہے۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ یہ کرۂ ارض اربوں جانداروں کا مسکن ہے۔ ہوا، پانی، زمین، جنگلات اور حیاتیاتی تنوع جیسے قدرتی وسائل نہ صرف زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام کی بنیاد بھی یہی ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے انسانی سرگرمیوں، صنعتی آلودگی، جنگلات کے خاتمے اور قدرتی وسائل کے بے جا استعمال نے اس نظام کو غیر متوازن کر دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے وقتوں میں انسانی بقا خود ایک بڑا سوال بن سکتی ہے۔ اسی لیے قدرت کے تحفظ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات کی ابتدا 1973 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنز انوائرنمنٹ پروگرام (UNEP) کے تحت ہوئی۔ اسی دن کو دنیا بھر میں ماحول کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر شعور اجاگر کرنے اور عملی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے منتخب کیا گیا۔ تب سے ہر سال 5 جون کو مختلف ممالک میں خصوصی تقریبات، مہمات اور آگاہی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس سال ان تقریبات کی میزبانی آذربائیجان کر رہا ہے، جبکہ UNEP نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو موجودہ دور کے ماحولیاتی مسائل کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختلف سطحوں پر سرگرمیاں جاری ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں گرین انرجی کو فروغ دینا، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو وسعت دینا، اور سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘، ’’مشن لائف‘‘ اور ’’سواچھ بھارت ابھیان‘‘ جیسے پروگرام ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ حکومت نے پلاسٹک ویسٹ کے مناسب پروسیسنگ کو بھی لازمی قرار دیا ہے تاکہ آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ حکومت نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ماحول کا تحفظ صرف ایک حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا اخلاقی اور اجتماعی فریضہ ہے، اور موجودہ ضروریات اور مستقبل کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہے۔
اسی طرح ریاست تلنگانہ بھی ماحولیاتی تحفظ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ شجرکاری مہمات، اربن پارکس کی ترقی اور قدرتی جنگلات کے فروغ کے ذریعے ماحول کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہوتے، جب تک عام شہری بھی اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھیں گے اور ماحول کے تحفظ میں فعال کردار ادا نہیں کریں گے، تب تک قدرتی توازن کو مکمل طور پر بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ ماحول کا تحفظ دراصل انسانی بقا کا تحفظ ہے۔ اگر ہم نے آج فطرت کی حفاظت کا عہد نہ کیا تو آنے والی نسلیں اس کی بھاری قیمت چکائیں گی۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ایک صاف، سرسبز اور محفوظ زمین کے لیے عملی اقدامات کریں اور فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کو ذمہ داری اور احترام کے ساتھ مضبوط بنائیں۔ جئے ہند


