متنازعہ ایس آئی آر پر عوامی تشویش دور کی جائے، اقلیتوں اور غریبوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے: مفتی محمود زبیر قاسمی (ویڈیو ضرور دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے جنرل سکریٹری مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے موجودہ طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آزادی کے بعد متعدد مرتبہ ایس آئی آر کی کارروائیاں انجام دی گئی ہیں، لیکن ماضی میں نہ تو عوام میں اس قدر بے چینی پائی گئی اور نہ ہی کسی طبقے کو اس طرح کے خدشات لاحق ہوئے تھے۔ موجودہ ایس آئی آر کا طریقۂ کار بالخصوص اقلیتوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور غریب عوام کے لیے شدید تشویش اور الجھن کا سبب بن گیا ہے۔

کرنول میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی نے کہا کہ ایس آئی آر کو شہریت کے مسئلے سے جوڑنے کی جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کہیں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں ووٹ کا حق ایک بنیادی حق کی حیثیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے پیدا ہونے والی کسی بھی غیر یقینی صورتحال کو فوری طور پر دور کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مغربی بنگال، آسام، کیرالا اور بعض دیگر ریاستوں میں ہونے والی ایس آئی آر کارروائیوں کے دوران لاکھوں افراد کے نام ووٹر لسٹوں سے حذف کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد ملک بھر میں عوامی سطح پر خوف اور تشویش میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر کمزور اور محروم طبقات اس عمل کے ممکنہ نتائج کے بارے میں فکرمند دکھائی دے رہے ہیں۔

مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی نے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ عوام کی رہنمائی اور مدد کے لیے آگے آئیں اور اس معاملے پر پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو درست معلومات فراہم کرنا اور ان کے خدشات کا ازالہ کرنا تمام ذمہ دار اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کی جانب سے ایس آئی آر کے تعلق سے بڑے پیمانے پر عوامی شعور بیداری مہم شروع کی جا رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد عوام کو ووٹر لسٹ نظرثانی کے عمل، ضروری دستاویزات اور قانونی تقاضوں سے آگاہ کرنا ہے تاکہ کوئی بھی شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہو۔ اس سلسلے میں اردو، انگریزی اور تلگو زبانوں میں معلوماتی پوسٹرز اور رہنما مواد بھی جاری کیا گیا ہے۔

مولانا نے کہا کہ جمعیۃ علماء کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں بیدار، باخبر اور منظم کرنا ہے تاکہ ہر شہری اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات کر سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں