حیدرآباد (دکن فائلز) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی تازہ معاشی پیش گوئی نے عوام اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مرکزی بینک نے رواں مالی سال کے لیے مہنگائی میں اضافے اور اقتصادی شرحِ نمو میں کمی کا عندیہ دیا ہے، جس کے بعد عام شہریوں پر بڑھتے معاشی دباؤ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
آر بی آئی کے مطابق ملک میں مہنگائی کی اوسط شرح پہلے کے تخمینے کے مقابلے میں زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو بھی توقعات سے کم ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی، سپلائی چین کے مسائل اور موسمی حالات معیشت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ریزرو بینک نے اپنی مانیٹری پالیسی میں اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ بین الاقوامی غیر یقینی صورتحال بھارتی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ملک کی معاشی بنیادیں اب بھی مضبوط قرار دی جا رہی ہیں، تاہم مہنگائی اور سست رفتار ترقی عام آدمی کے لیے مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کا براہِ راست اثر روزمرہ اشیائے ضروریہ، ایندھن اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، جبکہ شرحِ نمو میں کمی سے روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی آر بی آئی کی پیش گوئی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی چیلنجز کے باوجود بھارتی معیشت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور آنے والے مہینوں میں صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔


