گذشتہ آٹھ ماہ سے جیل میں۔۔۔ مولانا توقیر رضا کو نہیں ملی ضمانت!

حیدرآباد (دکن فائلز) الٰہ آباد ہائی کورٹ نے بریلی تشدد کیس میں گرفتار مسلم رہنما مولانا توقیر رضا خان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ابتدائی شواہد اور مقدمے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری راحت دینے سے انکار کیا۔

استغاثہ کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ تشدد اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق معاملہ انتہائی حساس ہے، لہٰذا مزید تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست مسترد کردی۔

مولانا توقیر رضا کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ ان کے موکل بے قصور ہیں اور انہیں سیاسی و انتظامی وجوہات کی بنا پر مقدمے میں شامل کیا گیا ہے، تاہم عدالت نے اس مرحلے پر ان دلائل کو ضمانت کے لیے کافی نہیں سمجھا۔

اس فیصلے کے بعد مولانا توقیر رضا کو فوری طور پر کوئی راحت نہیں مل سکی، البتہ قانونی ماہرین کے مطابق وہ اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس مقدمے پر ملک بھر کے مذہبی اور سیاسی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں