حیدرآباد (دکن فائلز) ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات اب ہندوستانی عوام کی روزمرہ زندگی پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ مرکزی حکومت نے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 29 روپے کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد دارالحکومت دہلی میں 14.2 کلوگرام والے گھریلو سلنڈر کی قیمت 942 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مغربی ایشیا میں جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل اور توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے خدشات کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف ایل پی جی بلکہ پٹرول، ڈیزل اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے عام صارفین، متوسط طبقے اور گھریلو خواتین کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی حالات اور درآمدی لاگت میں اضافے کے باعث قیمتوں پر نظرثانی ناگزیر ہو گئی تھی، تاہم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔


