حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے جب لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ ایرانی حملے کے بعد اسرائیل کے شمالی شہر حیفا سمیت متعدد علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے بیشتر میزائل فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے، تاہم ممکنہ مزید حملوں کے پیش نظر فوج اور سکیورٹی اداروں کو مکمل الرٹ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کے رامات ڈیوڈ فضائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کی قبولیت تمام محاذوں پر فائر بندی سے مشروط تھی، لیکن امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جس کے باعث ایران نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ اگر لبنان اور دیگر محاذوں پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ایرانی میزائل حملوں کے بعد تہران میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی افواج کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے جشن منایا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ہنگامی ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ایران پر مزید جوابی حملوں سے باز رہنے کا مشورہ دیا اور واضح کیا کہ امریکہ کسی نئی جنگی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔
تاہم امریکی اعتراضات کے باوجود اسرائیل نے چند گھنٹوں بعد ایران کے مختلف علاقوں میں جوابی حملے کیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، تبریز، اصفہان اور کرج کے نواحی علاقوں میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ مغربی اور وسطی ایران میں مخصوص فوجی اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔
دریں اثنا صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدے کے قریب ہے اور وہ خطے میں مزید جنگ نہیں چاہتا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ مستقبل میں دوبارہ کشیدگی پیدا نہ ہونے کی کوئی سو فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی۔


