حیدرآباد (دکن فائلز) واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ پھر میڈیا کے ساتھ اپنے سخت رویے کے باعث خبروں میں آگئے ہیں۔ این بی سی نیوز کے معروف پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران انتخابی دھاندلی سے متعلق دعوؤں پر ثبوت طلب کیے جانے پر ٹرمپ برہم ہوگئے اور گفتگو ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔
انٹرویو کے دوران میزبان کرسٹن ویلکر نے کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کے عمل اور انتخابی نتائج میں تاخیر پر سوالات کیے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ نتائج میں تاخیر انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم جب ان سے ان الزامات کے ثبوت طلب کیے گئے تو وہ کوئی واضح شواہد پیش نہ کر سکے۔
کرسٹن ویلکر نے نشاندہی کی کہ امریکا میں حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے حق میں کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں، جس پر ٹرمپ نے میڈیا اور انتخابی حکام پر شدید تنقید شروع کر دی۔ انہوں نے کیلیفورنیا کے انتخابی نظام کو ’’بدعنوان‘‘ قرار دیتے ہوئے این بی سی، سی این این، اے بی سی اور دیگر میڈیا اداروں پر جانبداری کا الزام لگایا۔
گفتگو اس وقت مزید تلخ ہوگئی جب ٹرمپ نے میزبان سے کہا کہ ’’یا تو آپ بدعنوان ہیں یا پھر بے وقوف۔‘‘ میزبان نے اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے خود کو غیر جانبدار صحافی قرار دیا، لیکن صدر ٹرمپ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
آخرکار گرما گرم بحث کے بعد ٹرمپ نے انٹرویو ختم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ’’اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنا مائیکروفون اتار دیا اور پروگرام ادھورا چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر صدر ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ سخت سوالات کے جواب دینے کے بجائے انٹرویو چھوڑ دینا ایک منتخب صدر کے شایانِ شان رویہ نہیں۔


