حیدرآباد (دکن فائلز) انڈیا اتحاد کی اہم میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت کو معیشت، خارجہ پالیسی، وفاقی ڈھانچے، مہنگائی، بے روزگاری اور جمہوری اداروں کے معاملے میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ دہلی میں منعقدہ اس اجلاس میں کانگریس سمیت تقریباً دو درجن اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کھڑگے نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں اپوزیشن اتحاد کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق انڈیا اتحاد نے گزشتہ چند برسوں میں اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا اور پارلیمنٹ کے اندر و باہر کئی اہم مسائل پر متحدہ حکمت عملی اختیار کی۔
کانگریس صدر نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت آئینی اداروں کو کمزور کر رہی ہے اور تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے کروڑوں شہریوں کے حق رائے دہی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
معاشی صورتحال پر کھڑگے نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری میں کمی نے عام آدمی کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چھوٹے اور درمیانی کاروبار بحران کا شکار ہیں، جبکہ چند نجی اجارہ داریوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
خارجہ پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ہندوستان کی روایتی سفارتی شناخت اور تاریخی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔


