حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ کی معروف مسلم شہری حقوق تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR نے ورجینیا کے فیئر فیکس کاؤنٹی پبلک اسکولز کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چار مسلم طلبا کو ان کے مذہبی اور نسلی پس منظر کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر سزا دی گئی۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ممتاز تعلیمی ادارے تھامس جیفرسن ہائی اسکول فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم مسلم طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق تنازع اکتوبر 2025 میں مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو سے شروع ہوا تھا۔
ویڈیو میں طلبا مزاحیہ انداز میں اپنے ساتھیوں کو تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ دیگر طلبہ گروپوں نے بھی اسی نوعیت کی ویڈیوز بنائی تھیں جن میں فرضی تشدد اور اسلحے کے مناظر شامل تھے، لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
سی اے آئی آر کے مطابق بعض سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو کو حماس اور 7 اکتوبر 2023 کے واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی، جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے مسلم طلبہ کو معطل کر دیا، ان پر یہود مخالف رویے کے الزامات لگائے اور ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تادیبی کارروائی درج کر دی۔
تنظیم کی وکیل کیتھرین کیک کا کہنا ہے کہ مسلم طلبہ کو محض ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
درخواست میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ طلبہ کے خلاف تادیبی ریکارڈ ختم کیا جائے، ہرجانہ ادا کیا جائے اور مستقبل میں ایسے امتیازی اقدامات روکنے کے لیے واضح احکامات جاری کیے جائیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت مذہبی امتیاز کے شواہد کو تسلیم کر لیتی ہے تو یہ مقدمہ امریکی تعلیمی اداروں میں شہری حقوق سے متعلق اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔


