حیدرآباد (دکن فائلز) مولانا توصیف رضا کی پراسرار موت کے معاملے میں جی آر پی بریلی نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم پنکج راجپوت کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پر 10 ہزار روپے کا انعام مقرر تھا اور اس نے دورانِ تفتیش مولانا کو ٹرین سے دھکا دینے کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
ایس ایس پی جی آر پی آشوتوش شکلا کے مطابق گرفتار ملزم مرادآباد کے محلہ قانون گویان کا رہائشی ہے اور اس کی عمر 25 برس ہے۔ پولیس نے سرویلنس، مخبروں کی اطلاع اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت کی اور اسے بریلی جنکشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 سے گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ مولانا توصیف رضا کی لاش 27 اپریل کو بریلی کے پالپور ریلوے کراسنگ کے قریب پٹریوں پر ملی تھی۔ وہ عرس تاج الشریعہ میں شرکت کے بعد یوگ نگری رشی کیش-مظفر پور اسپیشل ٹرین کے ذریعے کشن گنج واپس جا رہے تھے۔ ان کی اہلیہ تبسم نے بعد میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کے شوہر کو ٹرین میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد باہر پھینک دیا گیا۔
تحقیقات کے دوران جی آر پی نے کوچ نمبر 8، 9 اور 10 کے دو سو سے زائد مسافروں سے پوچھ گچھ کی اور متعدد ویڈیو کلپس کا جائزہ لیا۔ پولیس کے مطابق شواہد کی بنیاد پر پنکج راجپوت تک رسائی حاصل ہوئی، جس نے جھگڑے کے بعد مولانا کو چلتی ٹرین سے دھکا دینے کا اعتراف کیا۔
ایس ایس پی جی آر پی نے بتایا کہ نئے شواہد اور اعترافی بیان کے بعد مقدمے کی دفعات میں تبدیلی کی جا رہی ہے اور اسے قتلِ عمد کے بجائے غیر ارادی قتل کے زمرے میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور پولیس مزید پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔


