جے پور میں 45 سال قدیم نورانی مسجد شہید، سڑک توسیع کے نام پر عبادت گاہوں پر بلڈوزر کارروائی

حیدرآباد (دکن فائلز) راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں سڑک کی توسیع کے منصوبے کے تحت پیر کے روز چار منزلہ نورانی مسجد سمیت متعدد مذہبی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران پورے علاقے کو سخت سکیورٹی حصار میں لے لیا گیا جبکہ احتیاطی اقدام کے طور پر انٹرنیٹ خدمات بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔

جے پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مالویہ نگر کے نند پوری علاقے میں واقع کرشنا مارگ کی توسیع کے لیے صبح سویرے انہدامی کارروائی شروع کی۔ انتظامیہ کے مطابق نورانی مسجد، ایک مزار، دو مندر اور ایک ستسنگ بھون سمیت کئی تعمیرات سڑک کی حدود میں آ رہی تھیں، جنہیں ہٹایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق کارروائی کے لیے تقریباً 22 جے سی بی مشینیں استعمال کی گئیں جبکہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات رہے۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے دفعہ 163 نافذ کی گئی اور میڈیا سمیت عام افراد کی رسائی محدود کر دی گئی۔

جے ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ کرشنا مارگ کی سرکاری چوڑائی 80 فٹ ہے، لیکن مختلف مقامات پر تجاوزات کے باعث یہ صرف 25 سے 30 فٹ رہ گئی تھی۔ اسی وجہ سے سڑک کو اصل منصوبے کے مطابق وسعت دینے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب نورانی مسجد کمیٹی نے کارروائی پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد تقریباً 45 سال پرانی تھی اور 1981 میں تعمیر کی گئی تھی۔ کمیٹی کے مطابق مسجد جس زمین پر قائم تھی وہ جے ڈی اے سے منظور شدہ سوسائٹی سے قانونی طور پر خریدی گئی تھی۔

کانگریس کے بعض مقامی ارکان اسمبلی نے بھی بلڈوزر کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔شدت اختیار کر گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں