امریکی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایران میں امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی فوجی کمان ’’خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز‘‘ اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ امریکی جارحیت کے جواب میں بحرین میں قائم امریکی ففتھ فلیٹ، اردن کے الازرق فوجی اڈے اور کویت کے علی السالم ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق الازرق اڈے پر ایف-35 طیاروں کے ہینگرز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سمیت چار اہم اہداف کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے جاری ہیں جبکہ روسی میڈیا کے مطابق ایران نے جم کے علاقے میں ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون بھی تباہ کردیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں ریڈار اور فضائی دفاعی تنصیبات کے خلاف کارروائی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی گئی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے ردعمل میں ’’دفاعی اور متناسب کارروائی‘‘ تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اپنے فوجیوں اور عسکری اثاثوں پر حملوں کا بھرپور جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ایسا جواب دیا جائے گا جو انتہائی مضبوط اور مؤثر ہوگا۔

تاہم ایران نے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ تہران کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور آبنائے ہرمز میں کشیدہ حالات کے دوران ایسے واقعات غیر ارادی طور پر بھی پیش آسکتے ہیں۔

ایرانی ذرائع کے مطابق امریکی حملوں میں صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک میں واقع ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور اور پانی ذخیرہ کرنے والے دو بڑے ٹینک متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بندرعباس، میناب اور تہران میں کسی بڑے نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں