حیدرآباد (دکن فائلز) دارالحکومت دہلی کے مدن پور علاقہ میں 19 سالہ حاملہ مسلم خاتون نِشا پروین کی پراسرار موت نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ نِشا کے اہل خانہ نے اسکے درندہ صفت شوہر انکت اور دیگر افراد پر قتل، اجتماعی زیادتی اور تشدد کے الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اہل خانہ کے مطابق نِشا نے تقریباً دو سال قبل اپنے گھر والوں کی مرضی کے خلاف ہندو شخص انکت سے شادی کی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ شادی کے بعد سے نِشا مسلسل گھریلو تشدد اور ہراسانی کا شکار رہی۔ پانچ جون کو خاندان کو ایک دوست کے ذریعے اطلاع ملی کہ نِشا کی موت ہو چکی ہے۔ جب اہل خانہ موقع پر پہنچے تو مبینہ طور پر کمرہ باہر سے بند تھا۔ دروازہ توڑنے پر نِشا کی لاش اندر ملی جبکہ پنکھا اور کولر چل رہے تھے۔
نِشا کے بھائی نسیم اور دیگر رشتہ داروں کا دعویٰ ہے کہ مقتولہ کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے، چہرہ سوجا ہوا تھا، ہاتھ زخمی تھے اور وہ حاملہ بھی تھی۔ خاندان نے الزام لگایا ہے کہ نِشا کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابتدائی طور پر ان کی شکایات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی، تاہم احتجاج کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس نے شوہر انکت کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ اہل خانہ نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ انہیں ابھی تک ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔
کالندی کنج پولیس اسٹیشن کے باہر اہل خانہ اور مقامی افراد نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قتل، جنسی تشدد اور دیگر الزامات کی غیر جانبدارانہ اور وقت مقررہ میں تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔


