حیدرآباد (دکن فائلز) ملک میں مہنگائی ایک بار پھر عام آدمی کی زندگی پر بھاری پڑنے لگی ہے۔ مئی 2026 میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 3.93 فیصد تک پہنچ گئی، جو اپریل کے 3.48 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گزشتہ پانچ ماہ کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہے اور اس کے اثرات براہِ راست عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہے ہیں۔
مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ نے عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ سبزیوں، دالوں، خوردنی اشیاء، دودھ اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ غذائی اشیاء کی مہنگائی اپریل کے 4.2 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 4.78 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کا اثر اور بھی زیادہ دیکھا گیا جہاں غذائی مہنگائی کی شرح 4.85 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی مہنگائی کی زد میں ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بین الاقوامی کشیدگی کے باعث مال برداری اور سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ خدمات 7.63 فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیں، جس کا اثر اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور قیمتوں دونوں پر پڑ رہا ہے۔
ریستورانوں میں کھانا کھانے سے لے کر آن لائن فوڈ ڈیلیوری تک، ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر میں مہنگائی کی شرح 4.55 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
حکومت مسلسل معیشت کے مضبوط ہونے کے دعوے کر رہی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے دوہرے دباؤ کا شکار ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں اور بنیادی اشیاء کی لاگت میں کمی نہ آئی تو آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف اعداد و شمار پیش کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لاکھوں خاندانوں کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔


