مودی ہے تو ممکن ہے! مغربی بنگال کے مسلم اکثریتی بوتھ پر بی جے پی کو 656 میں سے 637 ووٹ ملے! انتخابی نتائج پر سنگین شکوک و شبہات

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کے راجرہاٹ نیو ٹاؤن اسمبلی حلقے کے ایک مسلم اکثریتی پولنگ بوتھ کے نتائج نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فیکٹ چیکنگ ادارے ’’آلٹ نیوز‘‘ کی تحقیق کے مطابق بوتھ نمبر 164، جسے مقامی طور پر ’’مسلمان پاڑہ‘‘ کہا جاتا ہے، پر بی جے پی کے امیدوار پیوش کنوڈیا کو 656 میں سے 637 ووٹ ملے، جبکہ ترنمول کانگریس کے امیدوار تاپش چٹرجی کو صرف 5 ووٹ اور سی پی آئی (ایم)-آئی ایس ایف اتحاد کے امیدوار سپترشی دیب کو محض ایک ووٹ حاصل ہوا۔

یہ نتیجہ اس لیے بھی حیران کن قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اسی علاقے کے پڑوسی بوتھ نمبر 165 پر صورتحال بالکل مختلف رہی۔ وہاں سی پی آئی (ایم)-آئی ایس ایف امیدوار کو 299 ووٹ، ٹی ایم سی امیدوار کو 290 ووٹ جبکہ بی جے پی کو صرف 32 ووٹ ملے۔ بتایا جاتا ہے کہ بوتھ نمبر 164 کے تقریباً 88 فیصد ووٹر مسلمان ہیں۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ بوتھ نمبر 164 کے نتائج شامل ہونے سے قبل ٹی ایم سی امیدوار 316 ووٹوں کی برتری پر تھے، لیکن اسی بوتھ کی گنتی کے بعد بی جے پی امیدوار ٹھیک 316 ووٹوں کے فرق سے کامیاب قرار پائے۔

متعدد مقامی باشندوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ووٹ نتائج میں ظاہر ہی نہیں ہوئے۔ سابق پنچایت رکن احمد علی منڈل نے کہا کہ ان کے خاندان کے آٹھ افراد نے اتحادی امیدوار کو ووٹ دیا تھا، لیکن نتائج میں اس امیدوار کو صرف ایک ووٹ ملا۔ آئی ایس ایف کے مقامی رہنماؤں اور پولنگ ایجنٹوں نے بھی اسی نوعیت کے شکوک و شبہات ظاہر کیے ہیں۔

الزامات یہ بھی ہیں کہ گنتی کے دوران متوقع 17 راؤنڈز کے بجائے 18 راؤنڈز ہوئے اور پولنگ کے روز ای وی ایم میں اصل ووٹوں سے 52 ووٹ زیادہ ظاہر ہونے کی شکایت سامنے آئی تھی۔ اپوزیشن امیدواروں نے وی وی پی اے ٹی کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ دوسری جانب بی جے پی کے کامیاب امیدوار پیوش کنوڈیا نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے اور نتائج اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں