اسرائیلی عہدیدار سے ہاتھ ملانے سے انکار کرنے والے مرد مجاہد فلسطینی فٹ بال فیڈریشن کے صدر کو ورلڈ کپ میں شرکت سے روک دیا گیا، امریکہ کا مکروہ چہرہ بے نقاب

حیدرآباد (دکن فائلز) فلسطینی فٹ بال فیڈریشن کے صدر جبریل الرجوب نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں امریکہ اور کینیڈا کا ویزا جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث وہ 2026 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی افتتاحی سرگرمیوں میں شرکت سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے کے پیچھے اسرائیلی دباؤ کارفرما ہو سکتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے جبریل الرجوب نے بتایا کہ انہوں نے اردن کے دارالحکومت عمان میں امریکی ویزے کے لیے درخواست دی تھی، لیکن انہیں اجازت نامہ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت میکسیکو میں موجود ہیں اور چند میچز دیکھنے کے بعد واپس فلسطین لوٹ جائیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کینیڈا نے بھی انہیں ویزا جاری نہیں کیا، حالانکہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہے ہیں۔ الرجوب نے دعویٰ کیا کہ بعض حلقے نہیں چاہتے کہ فلسطینی قیادت اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرے، اسی لیے ان کے سفر میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔

یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب گزشتہ اپریل میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں فیفا کانگریس کے دوران جبریل الرجوب نے اسرائیلی فٹ بال فیڈریشن کے ایک عہدیدار کے ساتھ گروپ فوٹو میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ فلسطینی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا تھا۔

فلسطینی فٹ بال فیڈریشن طویل عرصے سے فیفا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کرے، خصوصاً ان کلبوں کے معاملے میں جو مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں سرگرم ہیں۔ اسی سلسلے میں فیڈریشن نے کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (CAS) میں بھی اپیل دائر کر رکھی ہے۔

جبریل الرجوب نے کہا کہ وہ ویزے کے حصول اور بین الاقوامی کھیلوں کے فورمز میں فلسطینی نمائندگی کے حق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کے بقول کھیل کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے، لیکن فلسطینیوں کو بار بار امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں