حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹر کے جلگاؤں کے پارولہ تعلقہ میں واقع تامس واڑی گاؤں میں مسجد کے امام کے ساتھ بدسلوکی، مارپیٹ اور جبراً مذہبی نعرے لگوانے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مسلمانوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ پولیس نے شکایت کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق سید حکیم ہاشم، جو بیاول تعلقہ کے رہنے والے ہیں، چند روز قبل تامس واڑی کی نورانی مسجد میں بطور امام و خطیب مقرر ہوئے تھے۔ ایک دن فجر کی نماز کے بعد جب وہ مسجد سے اپنی عارضی رہائش کی طرف جا رہے تھے، تو بس اسٹینڈ کے قریب ہندوتوا شدت پسند ہیمنت مچھندر پوار عرف ناٹیا نے انہیں روک کر بدتمیزی کی اور گالی گلوچ کی۔ امام نے کسی تنازعہ سے بچنے کے لیے خاموشی اختیار کی اور وہاں سے چلے گئے۔
اگلے دن پھر فجر کے بعد واپسی کے دوران ہیمنت نے امام کو روکا اور مبینہ طور پر ان سے آدھار کارڈ سرپنچ کے پاس جمع کرانے کو کہا۔ اس دوران اس نے امام کا گریبان پکڑا، تھپڑ مارا اور راہ گیروں کو روک کر بھیڑ جمع کی۔ الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھی سے ویڈیو بنوایا اور امام کو زبردستی ’جے ایس آر‘ کا نعرہ لگوانے پر مجبور کیا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جلگاؤں کی سماجی تنظیم ایکتا سنگٹھن کا وفد پارولہ پولیس اسٹیشن پہنچا اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے ہیمنت مچھندر پوار عرف ناٹیا اور سمادھان بھاؤ صاحب دھوبی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ ہیمنت کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مقامی افراد دوسرے ملزم کی بھی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بعد میں ملزم کا معافی مانگنے والا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آیا، تاہم مسلمانوں کا کہنا ہے کہ صرف معافی کافی نہیں بلکہ سخت قانونی کارروائی ضروری ہے۔ ایکتا سنگٹھن نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیمنت پوار کے خلاف 2022 سے 2024 کے درمیان کئی مقدمات درج ہو چکے ہیں، اس لیے اس کے خلاف ایم پی ڈی اے ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔
مہاراشٹر میں بڑھتی فرقہ وارانہ کشیدگی پر سوالات کھڑے ہورہے ہیں۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مسجد کے امام کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی ناقابلِ برداشت ہے اور پولیس کو ملزمان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔


