برطانیہ میں فلسطین کے حق میں کارروائی کرنے والے چار کارکنوں کو طویل قید، عدالت کے باہر زبردست احتجاج

حیدرآباد (دکن فائلز) برطانیہ کی ایک عدالت نے فلسطین کے حامی چار کارکنوں کو اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایلبٹ سسٹمز کے کارخانے پر دھاوا بولنے اور اسلحے کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں طویل قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ یہ واقعہ 2024 میں جنوب مغربی انگلینڈ کے برسٹل کے قریب واقع ایلبٹ سسٹمز یو کے کی فیکٹری میں پیش آیا تھا۔

سزا پانے والے کارکنوں کا تعلق فلسطین ایکشن نامی تنظیم سے بتایا گیا ہے، جس پر حال ہی میں پابندی عائد کی گئی ہے۔ عدالت میں جج جیریمی جانسن نے کہا کہ اس جرم کا ’’دہشت گردی سے تعلق‘‘ پایا جاتا ہے، کیونکہ کارروائی کا مقصد کمپنی کو خوفزدہ کرنا اور برطانوی حکومت کو اسرائیل کی حمایت ختم کرنے پر دباؤ ڈالنا تھا۔

استغاثہ کے مطابق اس کارروائی سے ایلبٹ سسٹمز کو 10 لاکھ پاؤنڈ سے زائد کا نقصان پہنچا۔ سزا پانے والوں میں شارلٹ ہیڈ، سیموئل کارنر، لیونا کامیو اور فاطمہ زینب رجوانی شامل ہیں۔ عدالت نے سیموئل کارنر کو سب سے زیادہ سات سال آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ جج کے مطابق انہوں نے کارروائی کے دوران پولیس افسر پر ہتھوڑے سے حملہ کیا اور غیر ضروری طاقت استعمال کی۔

دوسری جانب فلسطین ایکشن کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسے ہتھیاروں اور ڈرونز کو ناکارہ بنانا تھا جو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہو سکتے تھے۔ کارکنوں کی حمایت کرنے والی تنظیم کے مطابق اس کارروائی میں 40 ہتھیار تباہ کیے گئے۔

فیصلے کے وقت عدالت کے باہر تقریباً 500 مظاہرین جمع ہوئے اور سزا پانے والے کارکنوں کے حق میں نعرے لگائے۔ پولیس کے مطابق فلسطین ایکشن کی حمایت میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھانے پر 72 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

یہ معاملہ برطانیہ میں آزادی اظہار، احتجاج کے حق، فلسطین حامی تحریکوں اور اسرائیلی اسلحہ کمپنیوں کے خلاف عوامی غصے کے تناظر میں ایک بڑی بحث بن گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں