ماب لنچنگ! مسلم شخص کے قتل کے 14 مجرمین کو عمر قید کی سزا، ہجومی تشدد پر فیصلہ عدالتی نظیر قرار

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے ضلع نرمداپورم کی ایک عدالت نے تقریباً چار سال قبل مویشی اسمگلنگ کے شبہ میں ایک مسلم شخص کے قتل کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے تمام 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو ہجومی تشدد (Mob Lynching) کے مقدمات میں ایک اہم عدالتی نظیر قرار دے رہے ہیں۔

یہ فیصلہ سیونی مالوا کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خان نے سنایا۔ عدالت نے مہاراشٹر کے ضلع امراوتی سے تعلق رکھنے والے نذیر احمد کے قتل کے مقدمے میں تمام 14 ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے ملزمان کو قتل، اقدام قتل، فساد، غیر قانونی اجتماع اور راستہ روکنے سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت مجرم پایا۔

استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ 3 اگست 2022 کی رات ضلع نرمداپورم کے سیونی مالوا علاقے کے بارکھڈ گاؤں کے قریب پیش آیا تھا۔ مہاراشٹر سے مویشی لے جانے والا ایک ٹرک رات کے وقت اس علاقے سے گزر رہا تھا جب مقامی افراد کے ایک ہجوم نے اسے روک لیا۔ ہجوم کو شبہ تھا کہ ٹرک میں مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق شبہ کی بنیاد پر ٹرک میں سوار افراد پر حملہ کر دیا گیا۔ حملے کے دوران نذیر احمد شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے، جبکہ دو دیگر افراد زخمی حالت میں بچ گئے۔ مقدمہ کے دوران زندہ بچ جانے والے ٹرک ڈرائیور شیخ لالہ نے عدالت میں اہم گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 50 سے 60 افراد پر مشتمل ہجوم نے سڑک بند کر کے ان پر اچانک حملہ کر دیا تھا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہاکہ ’’ہجوم نے بغیر کوئی سوال پوچھے یا وضاحت مانگے ہم پر حملہ شروع کر دیا۔ لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے شدید تشدد کیا گیا جس سے ہم بری طرح زخمی ہو گئے۔‘‘ تفتیش کے دوران واقعہ کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں مبینہ طور پر بعض افراد متاثرین پر تشدد کرتے اور نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔ مقامی افراد کی مداخلت سے دو زخمیوں کی جان بچائی جا سکی تھی۔

عدالتی فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ جب پولیس سزا یافتہ افراد کو جیل منتقل کرنے لگی تو ان کے اہل خانہ نے احتجاج کیا۔ بعض رشتہ دار پولیس گاڑیوں کے سامنے لیٹ گئے اور منتقلی روکنے کی کوشش کی، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

ملزمان کے اہل خانہ نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے رشتہ دار مویشیوں کے تحفظ کے لیے وہاں پہنچے تھے، تاہم عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد، گواہوں کے بیانات اور دیگر ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد تمام 14 افراد کو مجرم قرار دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ہجومی تشدد کے خلاف عدلیہ کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور شبہ کی بنیاد پر تشدد یا قتل سنگین جرم ہے جس پر سخت قانونی کارروائی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں