حیدرآباد (دکن فائلز) مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی اقدامات ایک نئے اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات فلسطینی انتظامیہ سے واپس لے کر اسرائیلی اداروں کے حوالے کرنے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ سموٹریچ کے مطابق یہ اقدام درحقیقت 1997ء میں طے پانے والے معاہدۂ الخلیل کے خاتمے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن کی ہائر پلاننگ کونسل نے کئی ماہ کی تیاری کے بعد وہ تمام اقدامات مکمل کر لیے ہیں جن کے ذریعے الخلیل کے قدیم شہر میں تعمیراتی اور ترقیاتی معاملات پر مکمل اسرائیلی کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ سموٹریچ نے اس فیصلے کو صرف انتظامی تبدیلی قرار دینے کے بجائے اسے مغربی کنارے اور مقدس مقامات پر اسرائیلی خودمختاری کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب چند ماہ قبل اسرائیلی حکومت نے مسجدِ ابراہیمی کے انتظامی اختیارات الخلیل میونسپلٹی سے واپس لے کر اسرائیلی ہائر پلاننگ کونسل کے سپرد کر دیے تھے۔ یہ کونسل زمینوں کے استعمال، تعمیرات، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شہری امور کے لیے مرکزی منصوبہ بندی کا ادارہ سمجھی جاتی ہے اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کے مطابق فیصلے مرتب کرتی ہے۔
فلسطینی حلقوں نے اس اقدام کو تاریخی اور مذہبی مقامات پر اسرائیلی قبضے کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مسجدِ ابراہیمی کے اطراف میں جاری آبادکاری منصوبے نہ صرف فلسطینی شہریوں کے حقوق کے لیے خطرہ ہیں بلکہ تاریخی ورثے کی حیثیت بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 1997ء کے معاہدۂ الخلیل کے تحت شہر کو دو حصوں H1 اور H2 میں تقسیم کیا گیا تھا۔ H2 علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں ہے اور مسجدِ ابراہیمی بھی اسی حصے میں واقع ہے۔ اس سے قبل 1994ء میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکار باروخ گولڈسٹائن کے حملے میں فجر کی نماز کے دوران 29 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے مسجدِ ابراہیمی کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کر دیا تھا۔
حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ مسجدِ ابراہیمی اور پورا شہر الخلیل اسرائیلی بالادستی کے تحت رہے گا، جسے فلسطینی حلقے علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔


