روح اللہ اور مہوا موئترا کے الزامات سنگین! کیا اسدالدین اویسی کو سیاسی تنازع میں گھسیٹا جا رہا ہے؟

حیدرآباد (دکن فائلز) ترنمول کانگریس میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی اور ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا موئترا کے حالیہ بیانات نے ایک نئے سیاسی تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے سابق کرکٹر اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمان یوسف پٹھان کو بی جے پی کے خلاف احتجاج سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم اب تک ان دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت منظر عام پر نہیں آیا ہے۔

آغا روح اللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک طویل پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ایک مسلم رکن پارلیمان نے یوسف پٹھان کو متنبہ کیا تھا کہ بی جے پی کے خلاف احتجاج کرنے سے گریز کریں، ورنہ گجرات میں ان کے گھر پر بلڈوزر چل سکتا ہے۔ بعد ازاں مہوا موئترا نے اسی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ رکن پارلیمان اسدالدین اویسی تھے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنے سنگین نوعیت کے الزام کے باوجود نہ کوئی ویڈیو، آڈیو یا عینی ثبوت پیش کیا گیا اور نہ ہی یوسف پٹھان کی جانب سے اس دعوے کی کھل کر تصدیق سامنے آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں اس بیان کی صداقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ سیاسی حالات میں اسدالدین اویسی ایک قومی سطح کی نمایاں مسلم سیاسی شخصیت ہیں اور ان کا نام ایسے تنازعات میں شامل ہونے سے سیاسی بحث کا رخ فوری طور پر تبدیل ہو جاتا ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ کیا روح اللہ اور مہوا موئترا اپنے سیاسی اختلافات اور پارٹی بحران کے بیچ اویسی کا نام لے کر عوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اگر واقعہ اتنا ہی سنگین تھا تو اس وقت پارلیمنٹ یا پارٹی فورم پر اسے کیوں نہیں اٹھایا گیا۔

دوسری جانب اسدالدین اویسی یا اے آئی ایم آئی ایم کی طرف سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی حلقے اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا اویسی ان الزامات کی تردید کریں گے یا اس حوالے سے کوئی وضاحت پیش کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوری سیاست میں اختلاف رائے فطری امر ہے، لیکن کسی بھی شخصیت پر الزام عائد کرنے سے قبل شواہد پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، ورنہ ایسے دعوے سیاسی بیان بازی اور محض الزامات کے زمرے میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روح اللہ اور مہوا موئترا کے دعوؤں پر اب سوالات اٹھ رہے ہیں اور سیاسی مبصرین ان الزامات کے حق میں قابلِ اعتبار ثبوت سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں