حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں مٹن کے نام پر ملاوٹ شدہ گوشت فروخت کیے جانے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ضبط کیے گئے گوشت کے نمونوں کی ڈی این اے جانچ میں انکشاف ہوا ہے کہ مٹن کے طور پر فروخت کیا جا رہا گوشت خالص بکرے کا گوشت نہیں تھا بلکہ اس میں بھینس کے بچھڑے (Buffalo Calf) کا گوشت بھی شامل تھا۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد پولیس نے دکان کے مالک کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق یکم جولائی کو حبیب نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں ملے پلی کی بڑی مسجد کے قریب واقع ایک گوشت کی دکان پر مشترکہ چھاپہ مارا گیا تھا۔ اس کارروائی میں حیدرآباد فوڈ ایڈلٹریشن سرویلنس ٹیم (H-FAST)، جی ایچ ایم سی کے ویٹرنری محکمہ، حبیب نگر پولیس اور سی سی ایس کے افسران شامل تھے۔
یہ کارروائی صارفین کی متعدد شکایات موصول ہونے کے بعد کی گئی۔ چھاپے کے دوران دکان سے تقریباً 50 کلوگرام مشتبہ گوشت ضبط کیا گیا اور اسے جانچ کے لیے بھیج دیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ گوشت کے نمونے ICAR – نیشنل میٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھیجے گئے، جہاں جدید DNA ٹیسٹ کے ذریعے یہ ثابت ہوا کہ مٹن کے نام پر فروخت کیے جانے والے گوشت میں بھینس کے بچے کا گوشت شامل تھا۔
اس سائنسی رپورٹ کے بعد پولیس نے دکان کے مالک کے خلاف دھوکہ دہی، غذائی ملاوٹ اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی عدالت میں چارج شیٹ بھی داخل کی جائے گی۔
خوراک میں ملاوٹ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے متعلقہ حکام نے خبردار کیا کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ اور قابل اعتماد دکانوں سے ہی گوشت خریدیں، اور اگر کسی قسم کا شبہ ہو تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کارروائی ایک مخصوص دکان سے متعلق ہے اور اس بنیاد پر حیدرآباد کے تمام گوشت فروشوں کے بارے میں کوئی عمومی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اگر اس کے پیچھے کوئی بڑا نیٹ ورک موجود ہو تو اسے بھی بے نقاب کیا جا سکے۔


