اترپردیش: کاوڑیوں کی مارپیٹ اور تشدد میں مسلم نوجوان جاں بحق، دو گرفتار

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ہاپوڑ ضلع میں کاوڑ یاترا کے دوران پیش آنے والے ایک مبینہ تشدد کے واقعے میں ایک مسلم نوجوان کی موت کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ واقعہ ایک سڑک حادثے کے بعد پیش آیا تھا، جس کے دوران پک اَپ گاڑی کے ڈرائیور اور کانوڑ یاتریوں کے درمیان مبینہ طور پر جھگڑا ہوا، جو بعد میں تشدد میں تبدیل ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق مسلم نوجوان کی شناخت عظیم کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ ایک پک اَپ گاڑی چلا رہا تھا۔ 31 جولائی کو ہاپوڑ میں گڑھ ٹول پلازہ کے قریب اس کی گاڑی ایک آٹو سے ٹکرا گئی، جس میں کانوڑ یاتری سوار تھے۔ حادثے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع میں عظیم پر ایک گروپ کی جانب سے مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق عظیم کو شدید مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور وہ تشویش ناک حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ اس کی حالت بگڑنے پر اسے مزید علاج کے لیے دہلی منتقل کیا گیا، جہاں وہ کئی دن کوما میں رہنے کے بعد 4 اگست کو دم توڑ گیا۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے معاملے کی تفتیش تیز کردی اور ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کی۔

ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے سے متعلق دونوں فریقوں کی شکایات کی بنیاد پر مقدمات درج کیے تھے، تاہم نوجوان کی موت کے بعد معاملے کی سنگینی مزید بڑھ گئی۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کانوڑ یاترا سے وابستہ افراد میں سے ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جبکہ مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

عظیم کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ حادثے کے بعد اسے بے رحمی سے پیٹا گیا، جس کے نتیجے میں اسے شدید چوٹیں آئیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ عظیم گھر کا اہم کفیل تھا۔ اس کے والد کے مطابق عظیم کی موت سے خاندان شدید مالی اور جذباتی بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ وہ اپنے پیچھے اہلیہ، ایک کمسن بچے اور بیمار والد کو چھوڑ گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور دستیاب شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر معلومات کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حادثے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تشدد کی مکمل حقیقت تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر مذہبی جلوسوں اور کانوڑ یاترا کے دوران امن و امان، ٹریفک نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مذہبی عقیدت کے نام پر کسی بھی شخص کے خلاف تشدد، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا برادری سے ہو، قانون کے مطابق قابلِ کارروائی ہے۔

واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور قتل کی دفعات شامل کیے جانے کے بعد اب معاملہ قانونی کارروائی کے اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں