خودساختہ گاڈمین آسارام باپو کو گاندھی نگر سیشن کورٹ نے آج جنسی زیادتی کیس میں عمر قید کی سزا سنائی۔ تاہم آسارام کی بیوی لکشمی بین، ان کی بیٹی اور چار شاگردوں کو جن پر جرم میں مدد کرنے اور حوصلہ افزائی کا الزام عائد تھا کو عدالت نے بری کر دیا۔
عدالت نے آسارام باپو کو تعزیرات ہند کی دفعہ 376 2 (C) عصمت دری، 377 (غیر فطری جرم)، 342 (غلط طریقے سے حراست)، 354 (اس کی عزت کو مجروح کرنے کے ارادے سے عورت پر حملہ یا مجرمانہ طاقت)، 357 (حملہ) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت مجرم قرار دیا۔
واضح رہے کہ گجرات کے گاندھی نگر کی سیشن کورٹ نے خاتون مرید سے عصمت دری معاملے میں آسارام باپو کو گذشتہ روز قصوروار قرار دیا تھا اور آج اس معاملہ میں سزا سنائی گئی۔
2013 میں سورت کی دو بہنوں سے عصمت دری معاملے میں گاندھی نگر سیشن کورٹ نے آسارام کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ آسارام کا بیٹا نارائن سائیں بھی اس کیس میں ملزم تھا۔ آسارام کی بیوی لکشمی، بیٹی بھارتی اور چار خاتون مریدوں دھروبین، نرملا، جسی اور میرا کو بھی مذکورہ معاملہ میں ملزم بنایا گیا تھا۔ ان سبھی کو گاندھی نگر کورٹ نے بری کر دیا تھا۔ آسارام اس وقت جودھپور جیل میں بند ہے۔
2013 میں سورت کی دو بہنوں نے نارائن سائیں اور اس کے والد آسارام کے خلاف عصمت دری کی شکایت درج کرائی تھی۔ چھوٹی بہن نے شکایت میں کہا تھا کہ نارائن سائیں نے 2002 سے 2005 کے درمیان اس کے ساتھ بار بار زنا کیا۔ لڑکی کے مطابق جب وہ سورت میں آسارام کے آشرم میں رہ رہی تھی، تب اس کے ساتھ عصمت دری ہوئی تھی۔ بڑی بہن نے اپنی شکایت میں آسارام پر عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا۔ متاثرہ نے کہا تھا کہ احمد آباد میں آشرم میں آسارام نے اس کے ساتھ کئی بار عصمت دری کی۔ دونوں بہنوں نے باپ-بیٹا کے خلاف الگ الگ تحریریں دی تھیں۔


