حیدرآباد (دکن فائلز) آخر کار صحافی صدیق کپن کو اترپردیش جیل سے رہا کردیا گیا جبکہ وہ دو سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی ٹرائل کے جیل میں بند تھے۔ کیرالہ سے تعلق رکھنے والے صدیق کپن گذشتہ 28 ماہ سے جیل میں بند تھے۔
واضح رہے کہ لکھنؤ کی ایک عدالت نے گذشتہ روز صدیق کپن کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق صدیق کپن کو چھ ماہ تک دہلی میں ہی رہنا ہوگا کیونکہ ضمانت کی شرائط کے مطابق انہیں ہر پیر کو حضرت نظام الدین پولیس اسٹیشن میں حاضری دینی ہوگی۔
صدیق کپن کو پانچ اکتوبر 2020 کواس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایک دلت خاتون کی مبینہ اجتماعی عصمت ریزی اور قتل معاملے کی رپورٹ کے لیے اترپردیش کے ہاتھرس جا رہے تھے۔ کپن کے ساتھ مزید تین افراد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جن میں ٹیکسی ڈرائیور بھی شامل تھا۔
پولیس نے پہلے ان کے خلاف ذات برادری کی بنیاد پر بدامنی اور مذہبی کشیدگی پھیلانے کی کوشش کوشش کا الزام لگایا تھا تاہم بعد میں کپن پر ملک سے غداری اور انسداد دہشت گردی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا۔ کچھ روز بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ نے صدیق کپن کے خلاف انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک میں تشدد برپا کرانے کے لیے پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے رقم حاصل کی۔
یہ تذکرہ بھی یہاں دلچسپ ہوگا کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 9 ستمبر کو یو اے پی اے کیس میں ان کی ضمانت منظور کی۔ بعد ازاں الہ آباد ہائی کورٹ نے 23 دسمبر کو انہیں منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت دی لیکن ضمانت کی منظوری کے باوجود کپن کو ایک ماہ سے زائد عرصے تک جیل میں مزید رہنا پڑا۔


