وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ معاشی سال 2023 اور 24 کیلئے 2 لاکھ 90ہزار 396 کروڑ روپئے کی تجاویز کے ساتھ بجٹ پیش کیا۔ اِس میں 2 لاکھ 11 ہزار 685 کروڑ روپئے ریونیو اخراجات اور37 ہزار525 کروڑ روپئے سرمایہ اخراجات کے طورپر رکھے گئے۔ بجٹ میں زراعت، آبپاشی، پنچایتی راج، درج فہرست طبقات کی بہبودی، عمارات وشوارع کیلئے زیادہ رقومات مختص کی گئیں۔
انہوں نے بتایاکہ اقلیتوں کیلئے 2ہزار 200 کروڑ روپئے خواتین اور بچوں کی بہبودی کیلئے 2 لاکھ 131 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔
ہریش راؤ نے کہاکہ گریجنوں کی بہبودی کیلئے درج فہرست قبائیل ترقیاتی فنڈ کے تحت 12 ہزار 233 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ ماہی گیروں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی وجہ سے 5 ہزار 860 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوئی ہے۔ بی سی طبقات کی بہبودی کیلئے اقامتی اسکول قائم کئے گئے ہیں۔ مہاتما جیوتی با پھولے غیر ملکی تعلیمی اسکالرشپس پر عمل کیاجارہا ہے۔ کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک پر عمل آوری کے ذریعہ بچپن کی شادیوں کو روکا جارہا ہے۔
ریاست کے تمام طبقات شہر اور دیہی علاقوں کو مساوی ترجیح دی گئی ہے۔ ہریش راؤ نے اپنے خطاب میں بتایاکہ ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں ریاست کا حصہ 4اعشاریہ 9فیصد ہے۔ ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار میں 12اعشاریہ 6فیصد کا اضافہ درج کیاگیا ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ حکومت عوام کی بہبودی کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ انتخابات کے موقع پر جو وعدے کئے گئے تھے اُنہیں پورا کرتے ہوئے کئی بہبودی اسکیمات کو متعارف کرایاگیا۔
حکومت کی جانب سے رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ جیسی اسکیمات پر عمل آوری کی وجہ سے ریاست میں زراعت کی ترقی میں 7اعشاریہ 4 فیصد کا اضافہ ہواہے۔ ہریش راؤ نے بتایاکہ اِس بجٹ میں زرعی شعبہ کیلئے 26 ہزار 831 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ پام آئیل کی کاشت کو وسعت دینے کیلئے ایک ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔
وزیر فینانس نے بتایاکہ آئندہ دوتین برسوں میں ریاست میں مزید 50 لاکھ ایکر اراضی کو آبپاشی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ آبپاشی کے شعبہ میں 3825 کروڑ روپئے سے چیک ڈیم کی تعمیر جاری ہے۔ جلد ہی 550 چیک ڈیمس کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔ اُنہوں نے بتایاکہ پالمور رنگاریڈی لفٹ ایریگشن پراجکٹ 60فیصد مکمل ہوگیا ہے۔ کھمم ضلع کے سیتاراما پراجکٹ کا کام بھی تکمیل کے قریب ہے۔ اس بجٹ میں آبپاشی کیلئے 26 ہزار 885 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔
وزیر فینانس نے بتایاکہ برقی شعبہ کی گنجائش کو مزید 8 ہزار 85 میگاواٹ تک بڑھایاجارہا ہے۔ نلگنڈہ ضلع کے دامر چرلہ یادادری آلٹرا میگا تھرمل پراجکٹ کا کام آخری مراحل میں ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ ریاست میں فی کس برقی کھپت میں دگنا اضافہ ہوگیا ہے۔ برقی شعبہ کیلئے 12 ہزار 727 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔
ہریش راؤ نے بتایاکہ مشن بھگیرتا کا کام تیزی سے مکمل کرنے کی وجہ سے حکومت کو 8 ہزار 33 کروڑ روپئے کی بچت ہوئی ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ دلت بندھو اسکیم پر عمل آوری کیلئے 17 ہزار 700 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ درج فہرست طبقات کے ترقیاتی فنڈ کے تحت 36 ہزار 750 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔
وزیر فینانس نے کہاکہ تعلیمی شعبہ کو مضبوط بناتے ہوئے غریبوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جارہی ہے۔ منا بڈی کے تحت 9 ہزار سے زیادہ اسکولوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنایاگیاہے۔ ہاسٹلس کیلئے نئی عمارتیں تعمیر کرنے 500 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔
وزیر فینانس ہریش راؤ نے بتایاکہ بجٹ 2023 اور 24 میں کسانوں کے قرض معافی کیلئے 6 ہزار 385 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے بعد ہریش راؤ نے میڈیا سے بات چیت کی۔ اُنہوں نے بتایاکہ جاریہ معاشی سال میں قرض معافی کی اسکیم کے تحت 90 ہزار روپئے تک کے قرض معاف کئے جائیں گے۔ رعیتو بندھو اسکیم کیلئے 275 کروڑ روپئے، رعیتو بیمہ اسکیم کیلئے 123 کروڑ روپئے، فیس باز ادائیگی اور میس چارجس کیلئے رقم کو 4 ہزار690 کروڑ روپئے سے بڑھاکر 5 ہزار 609 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ اُنہوں نے بتایاکہ ریاست کے 33 اضلاع میں کے سی آر نیوٹریشن کٹس اسکیم پر عمل کیاجارہا ہے۔ اِس کیلئے بجٹ میں 200 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک کیلئے بجٹ میں 460 کروڑ روپئے زائد مختص کئے گئے ہیں۔ سابق میں 2 ہزار750 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے اِس بجٹ میں 3 ہزار 210 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔


