ترکیہ شام زلزلہ: اموات کی تعداد 25ہزار سے تجاوز کرگئی

ترکیہ اور شام میں صدی کے تباہ کن زلزلے کو 5 روز گزر چکے ہیں جہاں امدادی کارکنوں بڑے پیمانے پر زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں میں ملبے تلے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے جب کہ دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ 25ہزار سے تجاوز چکی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں خون جما دینے والے سرد موسم نے امدادی کوششوں کو سخت متاثر کیا ہے اور لاکھوں لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جنہیں فوری امداد کی اشد ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے جبکہ تباہ کن قدرتی آفت کے دوران صرف شام میں 53 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ پیر کے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس نے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور زندہ بچ جانے والوں کی زندگیوں کو مزید مشکل بنادیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ترکی اور شام کے درمیان سرحد پار سے انسانی امداد کے نئے پوائنٹس کھولنے کی اجازت دے، سلامتی کونسل ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے کے اوائل میں شام کے حوالے سے بات چیت کے لیے اجلاس کرے گی۔

ترکیہ نے کہا کہ وہ شام کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں 2 نئے راستے کھولنے پر کام کر رہا ہے۔ ملک میں حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے میں 12ہزار 141 عمارتیں یا تو تباہ ہوئیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں