حیدرآباد (دکن فائلز) ملک بھر میں آج رحمتوں اور برکتوں والی رات شبِ معراج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ شب معراج کے موقع پر ملک بھر میں مساجد کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا، آج رات مساجد میں خصوصی محافل اور عبادات کا اہتمام کیا گیا۔ لوگوں کو نوافل ادا کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے دیکھا گیا۔ اس موقع پر بڑے پیمانہ پر جلسوں کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں علمائے کرام نے واقعہ معراج اور اس کی فضلیت پر روشنی ڈالی۔
معراج کی اس مبارک شب اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمدﷺ کو عرش پر بلا کر اپنا دیدار کراویا۔ رجب المرجب اسلامی سال کا ساتواں مہینہ ہے۔ اللہ رب العزت نے سال کے بارہ مہینوں میں مختلف دنوں اور راتوں کی خاص اہمیت و فضیلت بیان فرمائی ہے۔
اس مقدس سفر کے دوران آپ مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی، پھر آپ کو آسمانوں میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرانے کے لئے لے جایا گیا، وہاں رسول اکرمﷺ کو جنت اور دوزخ بھی دکھائی گئی، آپ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی کرائی گئی، اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی۔
شبِ معراج جہاں عالم انسانیت کو ورطہ حیرت میں ڈالنے والا واقعہ ہے وہیں یہ امت مسلمہ کے لئے عظیم فضیلت کی رات قرار دی گئی ہے۔ اسرا اور معراج کے واقعہ نے فکرِ انسانی کو ایک نیا موڑ عطا کیا۔ اس کے نتیجے میں فکر و نظر کی رسائی کو وسعت حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ پیغمبر اسلام ﷺ کا امتیازی معجزہ ہے۔
شبِ معراج پر محبوب خدا خاتم النبیینﷺ نے آسمانوں کی سیر کرکے اللہ کی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ حضور اکرم ﷺ اس مقدس سفر کے دوران مسجد الحرام سے مسجد اقصی گئے جہاں تمام انبیائے کرام نے آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کی اور پھر آپ آسمانوں میں اللہ تعالی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔اس واقعے کو قرآن کریم کی سور اسرا پارہ نمبر 15 کی ابتدائی آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ سفر معراج کے دوران رسول کریمﷺ کو جنت اور دوزخ دکھائی گئیں، آپ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔
اسی سفر میں امت محمدیہ ﷺ پر نماز یں بھی فرض ہوئیں، یہی وجہ ہے کہ اس شب خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ رجب المرجب کی ستائیسویں شب کو دنیا بھر کے مسلمان رحمتوں اور برکتوں والی رات شبِ معراج عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔


