کرناٹک میں حجاب پہن کر سالانہ امتحان میں شامل ہونے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے طالبات کے ایک گروپ نے سپریم کورٹ میں درخواست دی تھی تاہم اس پر چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے اس پر سماعت کرنے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔
درخواست گذار طالبات کی جانب سے ایڈوکیٹ شاداں فراست نے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ سے کہا کہ لڑکیاں سرکاری کالجوں میں حجاب پر پابندی کی وجہ سے امتحانات میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طالبات کا پہلے ہی ایک سال برباد ہوگیا ہے اور آئندہ امتحانات 9 مارچ سے منعقد ہونے والے ہیں۔
واضح رہے کہ قبل ازیں سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑہ نے 23 جنوری کو عدالت کو بتایا تھا کہ اس ماہ پریکٹیکل امتحانات ہونے والے ہیں اور طالبات کا اس میں شرکت کرنا مشکل ہے۔ اس لیے حجاب معاملہ پر عبوری ہدایات دی جائے تاکہ طالبات امتحانات میں شرکت کرسکیں۔ اس وقت عدالت نے درخواست گزاروں کو یقین دلایا تھا کہ جلد ہی اس معاملے کی سماعت کے لیے تین ججوں کی بنچ کی تشکیل کی جائے گی۔


