قبر پر تالا لگی کی تصویر کچھ روز قبل وائرل ہوگئی جبکہ میڈیا نے اس تصویر کو پاکستان کی بتاکر گھناؤنا الزام عائد کیا۔ تاہم آلٹ نیوز نے اس کی حقیقت کو سب کے سامنے لایا اور میڈیا کی ایک خاص طبقہ کے تعلق سے نفرتی سوچ کا پردہ فاش کیا۔
متعصب میڈیا نے اس تصویر کو پاکستان کا بتاکر نیکروفیلیا کے کیسز سے جوڑانے کی گھناؤنی حرکت کی اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ میڈیا میں بتایا گیا کہ کس طرح پاکستان میں والدین اپنی بیٹیوں کی قبروں کو تالا ڈال کر ان کی لاشوں کو بیحرمتی ہونے سے بچارہے ہیں۔
سب سے پہلے اے این آئی ڈیجیٹل نے مذکورہ دعوے کے ساتھ تصویر کو ٹویٹ کیا جس کے بعد اسے دیگر میڈیا میں خوب اچھالا گیا۔ وائرل تصویر کی نیوز کی سرخی کچھ اس طرح لگائی گئی ‘پاکستانی والدین اپنی بیٹیوں کی لاشوں کو ریپ سے بچانے کے لیے قبروں کو تالا لگارہے ہیں‘۔
بالآخر اس تصویر کی سچائی سامنے آگئی۔ یہ تصویر حیدرآباد دکن کے ایک قبرستان کی ہے۔ یہ قبر بہت پرانی ہے اور دوسری میت کی تدفین کو روکنے کےلیے اس قبر پر اس طرح دروازہ لگایا گیا اور اس پر تالا ڈالا گیا۔
دکن فائلز اردو نیوز پورٹل پر بھی اس سلسلہ میں ایک خبر شائع کی گئی تھی جس پر ادارہ کو افسوس ہے۔


