پونے میں ڈی آر ڈی او کے سائنس داں پردیپ کرولکر کو پاکستان کو پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے الزام میں اے ٹی ایس نے گرفتار کرلیا ہے۔
ڈی آر ڈی او کے ایک سائنسداں، جو پونے میں ایک ادارے میں کام کررہا تھا، اسے پاکستان کےلئے جاسوسی کرنے کے الزامات میں مہاراشٹر کی اے ٹی ایس نے حراست میں لیا ہے۔ ATS کے مطابق وہ واٹس اپ پیغامات، وائس کالز ویڈیو وغیرہ کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے کارندوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔
اے ٹی ایس نے کہا کہ ایک ذمہ دار عہدہ ہونے کے باوجود اس نے حکومت کی حساس خفیہ اطلاعات کے سلسلے میں اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا، جس سے ملک کی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
مہاراشٹر پولیس کے انسداد دہشت گردی دستے نے سرکاری خفیہ اطلاعات کے قانون 1923 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے۔
ایک بیان میں بتایا گیا کہ سائنسدان نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک دشمن ملک کو معلومات فراہم کیں۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ ان کے پاس موجود سرکاری راز اگر دشمن ملک کے پاس پہنچ جائیں گے تو ملک کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہو گا۔ دھوکہ باز و ملک کا غدار سائنسدان دفاعی تحقیق کے ادارے میں ایک سینیئر پوزیشن پر فائز تھے۔
ادھر انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کی خبر میں سپیشل پراسیکیوٹر وجے فارگاد کے حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈی آر ڈی او کے ایک انکوائری افسر نے 24 فروری کو اس سائنس دان کا لیپ ٹاپ اور دو موبائل فون قبضے میں لیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا فرانزک تجزیہ کیا گیا جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ سائنسدان نے ایک پاکستانی خفیہ ایجنٹ سے رابطہ کیا اور ان کو معلومات فراہم کیں۔
سینیئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ ایک پاکستانی ایجنٹ نے سوشل میڈیا کے ذریعے سائنسدان سے دوستی کی لیکن ظاہر کیا کہ وہ انڈین شہر امبالہ میں انجینیئرنگ کی طالبہ ہیں۔ پاکستانی ایجنٹ نے ایک پراجیکٹ پر بات کرنے کے بہانے سائنسدان سے دوستی کی اور بعد میں دونوں نے فون پر رابطہ شروع کر دیا۔ ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ گرفتار ہونے والا سائنسدان سینیئر پوزیشن پر فائز تھا اور تین دہائیوں سے اہم منصوبوں پر کام کر چکا تھا۔


