کرناٹک انتخابات میں حجاب کی جیت! ’کیا مجھے حجاب پہن کر اسمبلی میں آنے سے کوئی روک سکتا ہے‘؟

حیدرآباد: (دکن فائلز) حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والی خاتون رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سابق وزیر مرحوم قمر الاسلام کی اہلیہ نے حجاب سے متعلق بی جے پی حکومت کے متنازعہ فیصلے کے خلاف طلباء کے ساتھ زبردست احتجاج کیا تھا۔ انہوں نے انتخابات میں بی جے پی امیدوار چندرکانت بی پاٹل کو تقریباً 3 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی۔

کرناٹک میں بی جے پی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے بعد ملک بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ کرناٹک کے محکمہ تعلیم نے حکم نامہ جاری کرکے مسلم طالبات کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہنچ کرآنے پر پابندی عائد کی تھی جس کے بعد کانگریس کی رکن اسمبلی کنیز فاطمہ نے اس فرقہ وارانہ فرمان کے خلاف گلبرگہ ضلع کلکٹریٹ کے سامنے مسلم طابلات کے حق میں احتجاج کیا تھا۔
کنیز فاطمہ نے گلبرگہ شمالی حلقہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر بی جے پی امیدوار چندرکانت بی پاٹل کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ اب کرناٹک اسمبلی میں وہ واحد مسلم خاتون ہیں۔ انہوں نے حجاب پر پابندی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔
کنیز فاطمہ نے 2018 میں بھی بی جے پی امیدوار چندرکانت بی پاٹل کو شکست دی تھی اور 5,940 ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی تھی۔ گلبرگہ شمال حلقہ ایک مسلم اکثریتی حلقہ ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ حجاب پر پابندی سے مسلم لڑکیوں کے تعلیم کا حق سلب کیا جا رہا ہے۔ انہوں ے بی جے پی پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس فیصلے کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کو چیلنج کیا تھا کہ ’کیا مجھے حجاب پہن کر اسمبلی میں آنے سے کوئی روک سکتا ہے؟‘
وہیں دوسری جانب کرناٹک انتخابات میں وزیر تعلیم بی سی ناگیش کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابات میں عوام نے ان کی نفرت انگیز سیاست کو نکار دیا۔ وہ ہمیشہ اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے سرخیوں میں رہتے تھے تاہم ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ناکام رہے۔ انہیں 17652 ووٹوں سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں