سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کو آج اتر پردیش کی ایک عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے 2019 کے نفرت انگیز تقریر کے ایک مقدمے میں انہیں بری کر دیا۔ رام پور کی عدالت نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو پلٹ دیا جس نے سماج وادی لیڈر کو گزشتہ سال وزیر اعظم نریندر مودی اور اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بناتے ہوئے نفرت انگیز تقریر کا مجرم قرار دیا تھا۔
سماج وادی لیڈر نے وزیر اعظم پر الزام لگایا تھا کہ وہ ملک میں ایسا ماحول بنا رہے ہیں جس میں مسلمانوں کا وجود مشکل ہے۔
واضح رہے کہ اسی کیس میں 2022 میں نچلی عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے بعد خان کو بطور ایم ایل اے نااہل قرار دے دیا گیا۔
اس دوران اعظم خان کے وکیل ونود شرما نے کہاکہ ’ہمیں نفرت ہیٹ اسپیچ کیس میں بری کر دیا گیا ہے۔ ہمیں انصاف ملا ہے، جس کےلئے ہم خوش ہیں‘۔


