حیدرآباد کے پرانے شہر میں مسلم بیٹی اور ہندو بیٹے کے درمیان ماں کی آخری رسومات کو لیکر تنازعہ کے بعد مادناپیٹ علاقہ میں کشیدگی دیکھی گئی تاہم پولیس نے معاملہ کو سلجھالینے کا دعویٰ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بیٹا ہندو مذہب کی پیروی کرتا ہے جبکہ بیٹی نے اسلام مذہب کو قبول کرلیا ہے۔ جب ان کی ماں کا انتقال ہوا تو بھائی اور بہن میں ماں کی آخری رسومات کو لیکر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ مادنا پیٹ دراب جنگ کالونی میں رہنے والی 95 سالہ خاتون کا انتقال ہوا۔ خاتون کو ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے، بیٹا اپنے بچوں کے ساتھ چادر گھاٹ میں رہتا ہے جبکہ بیٹی نے تقریباً 20 سال قبل اسلام مذہب کو اپنالیا تھا۔ بیٹی کی عمر اب 60 سال سے زائد ہے۔
اب تنازعہ یہ ہے کہ بیٹا ہندو روایات کے مطابق ماں کی آخری رسومات ادا کرنا چاہتا ہے جبکہ بیٹی نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا ہے کہ بوڑھی خاتون (ماں) نے اسلام کے مطابق آخری رسومات ادا کرنے کی وصیعت کی تھی اور گذشتہ 12 سال سے صرف میں نے ہی ماں کا خیال رکھا ہے۔ اسی لئے بیٹی نے ماں کی آخری رسومات کو اسلام کے مطابق ادا کرنے پر زور دیا۔
بیٹی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ والدہ نے بھی اسلام مذہب قبول کو کر لیا تھا۔ بیٹی نے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے تقریباً 5 لاکھ روپے کے خرچہ سے اپنی ماں کی سرجری کروائی تھی۔ اسی لئے آخری رسومات اسلام مذہب کے مطابق ادا کی جانی چاہئے۔ یہ میرا حق ہے۔
کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مادنا پیٹ علاقہ میں پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا اور پولیس کی جانب سے دستاویزات اور ویڈیو شواہد کی جانچ کی گئی۔ بعدازاں دونوں فریقین سے بات کرکے معاملہ کو سلجھالیا گیا۔
ساؤتھ ایسٹ ڈی سی پی روپیش نے بتایا کہ فریقین سے بات چیت کرتے ہوئے معاملہ کو حل کرلیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹا اور بیٹی نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ پہلے بیٹی کی خواہش کے مطابق بوڑھی خاتون اسلام مذہب کے مطابق نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور بعدازاں میت کو بیٹے کے حوالے کردیا جائے گا۔ ڈی سی پی نے کہا کہ بیٹی اور بیٹے نے ان تجاویز سے اتفاق کرلیا ہے۔


