حیدرآباد کے ملک پیٹ علاقہ میں موسیٰ ندی کے قریب چھ روز قبل پولیس کو ایک خاتون کا کٹا ہوا سر ملا تھا۔ اس کیس کی تفتیش کے دوران سنسنی خیز باتوں کا انکشاف ہوا ہے۔ متوفی کی بہن اور بہنوئی نے سر کی شناخت کی۔ انہوں نے لاش کی شناخت انورادھا کے طور پر کی جو ایک نجی ہسپتال میں نرس کا کام کرتی تھی۔
انورادھا کے گھر والوں کے مطابق انورادھا سود پر لوگوں کو قرض دیا کرتی تھی تاہم رقم کے تنازعہ کی وجہ سے ہی اسے قتل کیا گیا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے قاتل چندرمولی کو گرفتار کرلیا جس نے خاتون کے سر کو پھینکا تھا۔
ملزم چندرمولی نے انورادھا کو قتل کر کے اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور سر کو پھینک دیا جبکہ جسم کے دیگر حصوں کو ایک بالٹی میں چھپاکر اسے فریج میں رکھ دیا۔ متوفی کے جسم کے اعضاء کو چندرمولی نے اپنے مکان واقع چیتنیا پوری میں چھپایا۔ پولیس نے جسم کے اعضا کو عثمانیہ اسپتال منتقل کردیا۔
پولیس تفتیش کے دوران سنسنی خیز باتیں سامنے آئی۔ انورادھا، چندرمولی کے گھر میں کرایہ سے رہا کرتی تھی۔ آن لائن ٹریڈنگ میں بھاری نقصان کی وجہ سے چندرمولی قرض میں ڈوب گیا۔ اس نے انورادھا سے 18 لاکھ روپئے کا قرض لیا تھا۔ پیسے واپس مانگنے پر اس نے انورادھا کو قتل کر دیا۔
چندرمولی نے انکشاف کیا کہ وہ گھر میں بدبو کو روکنے کے لیے کافور اور دیگر کیمیکل استعمال کرتا تھا۔ اس نے کہا کہ اس نے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر جسم کے اعضاء کو تلف کرنے کے لیے ویڈیوز کو دیکھا۔ پولیس نے اس کیس کو تیزی سے کریک کرلیا۔


