’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ نظم کے خالق علامہ اقبال پر مبنی مضمون کو دہلی یونیورسٹی کے نصاب سے نکالنے کےلئے قرارداد منظور

دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا، نظم کے خالق و شاعر مشرق علامہ محمد اقبال سے متعلق نصاب میں شامل مضمون کو حذف کرنے کی قرارداد منظور کرلی۔ تاہم اس معاملہ میں ایگزیکٹو کونسل حتمی فیصلہ کرے گی۔

دہلی یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے بی اے پولیٹیکل سائنس کورس سے علاقہ اقبال پر مبنی ایک باب کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک قرارداد کو گذشتہ جمعہ کے روز اکیڈمک کونسل نے منظوری دے دی۔

اطلاعات کے مطابق علامہ اقبال سے متعلق مضمون بی اے کے چھٹے سمسٹر میں ’ماڈرن انڈین پولیٹیکل تھاٹ‘ کے عنوان سے باب کا حصہ ہے۔ اب اس مضمون کو نصاب سے خارج کرنے کےلئے قرارداد منظور کی گئی ہے۔ یہ معاملہ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے سامنے پیش کیا جائے گا جو حتمی فیصلہ کرے گی۔

جامعہ کی اکیڈمک کونسل کے ایک رکن کے مطابق پولیٹکل سائنس کے نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی گئی، جس کے مطابق ’اقبال: کمیونٹی‘ کے عنوان سے موجود مضمون کو نصاب سے نکال دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیٹکل سائنس کے نصاب میں 11 یونٹس ہیں جن کا مقصد انفرادی مفکرین کے ذریعے اہم موضوعات کا مطالعہ کرنا ہے، ان میں سے ایک یونٹ ’اقبال: کمیونٹی‘ کے عنوان سے بھی موجود تھا، جسے نصاب سے نکال دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق نصاب میں یہ تبدیلی اسے جدید بنانے کی مہم کے سلسلے میں کی گئی ہے، تاہم دیگر مفکرین جن میں رام موہن رائے، پنڈتا رمابائی، سوامی وویکانند، مہاتما گاندھی اور بھیم راؤ امبیڈکر شامل ہیں، نصاب کا حصہ رہیں گے۔
واضح رہے کہ سارے جہاں سے اچھا یہ ترانہ ہندی اردو زبان میں لکھی گئی ایک نظم کا ہے جو تحریک آزادی کے دوران برطانوی راج کے خلاف احتجاج کی علامت بن گئی تھی، جسے آج بھی تمام ہندوستانی بڑے عقیدت کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اس نظم کو علامہ محمد اقبال نے 1905ء میں لکھا تھا اور سب سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھ کر سنایا تھا، یہ اقبال کے پہلے مجموعۂ کلام بانگ درا میں شامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں