حیدرآباد (دکن فائلز) دہلی کے ایک بازار میں سرعام اپنی دوست کا بہیمانہ قتل کرنے والے 20 سالہ لڑکے کو مسلمان ظاہر کرکے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کیونکہ ملزم کا نام ساحل ہے اور اس کے والد کا نام سرفراز بتایا جارہا ہے، اسی لئے انتہائی دردناک واقعہ کے بعد فرقہ پرست بھگتوں کی جانب سے واردات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر و دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر ملزم ساحل کو مسلم بتاتے ہوئے اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے۔ بھگوا تنظیموں سے وابستہ کچھ فرقہ پرستوں نے اس واقعہ پر افسوس کرنے کے بجائے اسے مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے ایک بہترین موقع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

فرضی خبروں اور واقعات کو توڑ مروڑ کر بتانے والے بھگوا بریگیڈ جس میں بی جے پی، بجرنگ دل، آر ایس ایس، ہندو واہنی و دیگر شدت پسند تنظیموں سے وابستہ بھگتوں نے دہلی میں سر عام ایک معصوم لڑکی کے قتل کے فوری بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت بھڑکانے کی کوشش کرنے لگے اور ایسا ظاہر کیاگیا کہ ایک ہندو لڑکی کو ایک مسلمان لڑکے نے سرعام بے دردی سے قتل کردیا۔
دہلی کی دردناک واردات کے بعد بھگتوں کی حرکت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں قتل کی واردات پر ذرہ برابر بھی افسوس نہیں ہے، بلکہ وہ تو اسے ایک موقع کی شکل میں دیکھ رہے تھے تاکہ مسلمانوں کے خلاف خْوب زہر اگلا جاسکے۔

اطلاعات کے مطابق دارالحکومت میں ہونے والی قتل کی لرزہ خیز واردات نے ایک بار پھر خواتین کے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ دہلی میں 20 سالہ لڑکے نے اپنی 16 سال کی دوست پر سرعام پے در پے چھریوں کے وار کیے اور پتھر لڑکی کے سر پر مار مار کر اس کو قتل کر دیا۔ سرعام کیے جانے والے قتل کی وائرل فوٹیج میں بہت سے لوگوں کو جائے وقوعہ کے پاس سے گزرتے دیکھا گیا لیکن کسی نے لڑکے کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ قتل کی ہولناک واردات سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہوگئی۔
پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے فرار ہونے والے لڑکے کو بلند شہر سے گرفتار کرلیا اور اس سلسلہ میں تفتیش کا آغاز کردیا۔
ملزم کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے، لیکن کسی خاص مذہب سے تعلق رکھنے والے ملزم کا نام لیکر اس کے مذہب کو بدنام کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو وہ اس کا ذاتی عمل ہوتا اس سے اس کے مذہب کا کوئی لینا دینا نہیں۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل حیدرآباد میں ایک سر کٹی لاش ملی تھی۔ اس واقعہ میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ملزم نے ایک عمررسیدہ خاتون کا قتل کیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے فریج میں رکھے تھے۔ اس معاملہ پر میڈیا میں کوئی شور نہیں تھا، اگر اس واردات میں بھی کوئی مسلمان شامل ہوتا تو پھر فرقہ پرست میڈیا کی جانب سے اسے خوب اچھالا جاتا۔


