مودی جی بھگوان کو بھی سمجھا سکتے ہیں۔۔۔ امریکہ میں راہل گاندھی کے خطاب پر بی جے پی چراغ پا  (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس رہنما راہل گاندھی امریکہ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے سان فرانسسکو میں ہندوستانیوں سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ’دنیا اتنی بڑی ہے کہ کوئی بھی شخص یہ سوچ نہیں سکتا کہ وہ سب کچھ جانتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان میں کچھ لوگوں کو ایسی بیماری ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سب کچھ معلوم ہے۔ وہ بھگوان سے زیادہ جانتے ہیں! وہ بھگوان کے سامنے بھی بیٹھ کر انہیں بھی سمجھا سکتے ہیں کہ کیا چل رہا ہے! پی ایم مودی بھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں۔‘


راہل گاندھی نے وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اگر پی ایم مودی کو بھگوان کے سامنے بیٹھنے کو کہا جائے تو وہ بھگوان کو بھی سمجھانا شروع کر دیں گے کہ کائنات میں کیا چل رہا ہے! یہاں تک کہ بھگوان بھی اس بات میں الجھ جائیں گے کہ انہوں نے کیا بنایا ہے! ہندوستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں کچھ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ جب وہ سائنس دانوں کے پاس جاتے ہیں تو انھیں سائنس کے بارے میں بتاتے ہیں، جب وہ مورخین کے پاس جاتے ہیں تو وہ انھیں تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ فوج کو جنگ کے بارے میں، فضائیہ کو پرواز کرنے کے بارے میں سب کچھ بتاتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کیونکہ اگر آپ کسی کی بات نہیں سننا چاہتے تو آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔‘

راہل گاندھی کے بیان کی مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے مذمت کی، انہوں نے راہل گاندھی پر اپنے غیر ملکی دوروں میں بھارت کی شبیہہ خراب کرنے اور توہین کرنےکا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی اس حقیقت کو برداشت نہیں کرسکے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے میں قریب قریب 24 ملکوں کے صدور اور وزراء اعظم سے ملاقات کی اور پچاس سے زیادہ میٹنگیں کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں