حیدرآباد (دکن فائلز) کانگریس رہنما راہل گاندھی امریکہ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے سان فرانسسکو میں ہندوستانیوں سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ’دنیا اتنی بڑی ہے کہ کوئی بھی شخص یہ سوچ نہیں سکتا کہ وہ سب کچھ جانتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہندوستان میں کچھ لوگوں کو ایسی بیماری ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں سب کچھ معلوم ہے۔ وہ بھگوان سے زیادہ جانتے ہیں! وہ بھگوان کے سامنے بھی بیٹھ کر انہیں بھی سمجھا سکتے ہیں کہ کیا چل رہا ہے! پی ایم مودی بھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں۔‘
A few people in India are absolutely convinced that they know everything. They think they can explain history to historians, science to scientists and warfare to the army.
But at the core of it is mediocrity. They're not ready to listen!
: Sh. @RahulGandhi in San Francisco,… pic.twitter.com/WiJZqygkCk
— Congress (@INCIndia) May 31, 2023
راہل گاندھی نے وزیراعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ اگر پی ایم مودی کو بھگوان کے سامنے بیٹھنے کو کہا جائے تو وہ بھگوان کو بھی سمجھانا شروع کر دیں گے کہ کائنات میں کیا چل رہا ہے! یہاں تک کہ بھگوان بھی اس بات میں الجھ جائیں گے کہ انہوں نے کیا بنایا ہے! ہندوستان میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں کچھ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ جب وہ سائنس دانوں کے پاس جاتے ہیں تو انھیں سائنس کے بارے میں بتاتے ہیں، جب وہ مورخین کے پاس جاتے ہیں تو وہ انھیں تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ فوج کو جنگ کے بارے میں، فضائیہ کو پرواز کرنے کے بارے میں سب کچھ بتاتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ انہیں کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کیونکہ اگر آپ کسی کی بات نہیں سننا چاہتے تو آپ اس کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتے۔‘
راہل گاندھی کے بیان کی مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے مذمت کی، انہوں نے راہل گاندھی پر اپنے غیر ملکی دوروں میں بھارت کی شبیہہ خراب کرنے اور توہین کرنےکا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی اس حقیقت کو برداشت نہیں کرسکے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے میں قریب قریب 24 ملکوں کے صدور اور وزراء اعظم سے ملاقات کی اور پچاس سے زیادہ میٹنگیں کیں۔


