مسلم پرسنل لا بورڈ کے اندور اجلاس میں ہوگا نئے صدر کا انتخاب، مسلم میرر اور آزاد رپورٹر ابو ایمل کے سروے میں مولانا سجاد نعمانی کو 70 فیصد سے زائد افراد نے پسند کیا

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کا باوقار، معتبر اور متحدہ پلیٹ فارم ہے۔ تنظیم کو ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ اور ترجمان تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے قیام کا اصل مقصد مسلمانوں کے عائلی قوانین کا تحفظ کرنا ہے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کا دوروزہ اہم اجلاس آج سے اندور میں شروع ہوا۔اس اجلاس میں نیے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی نگاہیں اندور میں ہونے والے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس پر ٹکی ہوئی ہیں اور سب یہ جاننے کےلئے کوشاں ہیں کہ بورڈ کا اگلا صدر کون ہوگا۔
مولانا رابع حسنی ندویؒ کو 2002 میں حیدرآباد میں منعقدہ ایک عظیم الشان اجلاس میں مسلم پرسنل لا بورڈ کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ مولانا کا 13 اپریل 2023 کو انتقال ہوگیا۔ صدر مسلم پرسنل لا بورڈ کا عہدہ مولانا رابع حسنی ندوی کے انتقال کے بعد سے مخلوعہ ہے۔
بورڈ کی جانب سے ایسے رہنما کی تلاش کی جارہی ہے جو تمام فقہی مکاتب فکر کے لیے قابل قبول ہو اور سب کو ساتھ لے کر چلے۔ بورڈ کی جانب سے یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ حسب روایت متفقہ طور پر صدر کا انتخاب کیا جائے۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے نئے صدر کےلئے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث و مباحث جاری ہیں اور کچھ اصحاب کے ناموں کو پیش کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ نام سامنے آرہے ہیں، جن میں مولانا ارشدمدنی، مولانا سجاد نعمانی،مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مفتی خلیل احمد شامل ہیں۔
حال ہی میں انگریزی نیوز پورٹل مسلم میرر کی جانب سے ٹوئٹر پر اس سلسلہ میں ایک سروے کیا گیا جس میں 71 فیصد افراد نے مولانا سجاد نعمانی کو پسند کیا ہے جبکہ 16 فیصد افراد مولانا ارشد مدنی اور 14 فیصد افراد نے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو نئے صدر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسی طرح آزاد رپورٹر ابو ایمل کے آفیشل فیس بک پیچ کے ذریعہ بھی سروے کیا گیا۔ اس سروے میں تقریباً ایک ہزار سے زائد کمنٹس آئے جبکہ 75 فیصد افراد نے بھی مولانا سجاد نعمانی کو پسند کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں