حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے حیدرآباد میں ایک ہائی ٹیک نقل نویسی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سکندرآباد کے مونڈا مارکیٹ پولیس اسٹیشن حدود میں ہائی ٹیک انداز میں نقل نویسی کرنے کا واقعہ پیش آیا۔ جہاں چار دوست، ایک واٹس ایپ گروپ بنا کر جے ای ای اڈوانس امتحان میں ہائی ٹیک انداز میں نقل نویسی کرتے ہوئے پائے گئے۔ 4 جون کو یہ واقعہ پیش آیا۔ اس معاملے کے اہم ملزم چنتاپلی چیتنیا کرشنا کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔
ہائی ٹیک سٹی میں واقع ایک کارپوریٹ کالج کے ہاسٹل میں زیر تعلیم چار طلباء نے ایل بی نگر، ملا پور، مولاعلی اور سکندرآباد مراکز میں جے ای ای ایڈوانسڈ کا امتحان دیا۔ امتحان میں فیل ہونے کے ڈر سے ان چاروں نے نقل نویسی کرنے کی تیاری کی۔ اس مقصد کے لیے واٹس ایپ گروپ بنایا گیا ہے جس میں صرف یہ چار ہی شامل تھے۔ وہ اتوار کی صبح امتحان کے لیے اپنے سمارٹ فون کے ساتھ امتحانی مراکز میں داخل ہوگئے۔ ان چاروں میں ایک ذہین طالب علم تھا جس کا سنٹر این پی آئی ٹی کالج سکندرآباد میں تھا اس نے واٹس ایپ گروپ پر ریاضی اور کیمسٹری کے جوابات کے اسکرین شاٹس پوسٹ کیے۔ ایل بی نگر، ملا پور اور مولاعلی مراکز میں امتحانات لکھنے والے دیگر تین طلباء نے بھی ان جوابات کی نقل کی۔
اس دوران سنٹر پر انویجیلیٹر نے اس نقل نویسی کرتے ہوئے ایک طالب عالم کو پکڑ لیا۔ پوچھ تاچھ کے بعد پورا معاملہ سامنے آیا۔ اس کے بعد پولسی کو اس کی اطلاع دی گئی۔
مونڈا مارکٹ پولیس نے اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرلیا۔ سکندرآباد ایس پی آئی ٹی سنٹر میں پکڑے گئے ذہین طالب علم کا تعلق کڑپہ ضلع سے ہے۔ اس نے ایس ایس سی میں 600/800 نمبر اور انٹر میں 940/1000 نمبر حاصل کیے۔ ان کے ایک رشتہ دار نے دکھ کا اظہار کیا کہ اتنے ہونہار طالب علم نے اپنے دوستوں کے لیے اپنا مستقبل تباہ کرلیا۔


