ملعون وسیم رضوی کے خلاف قتل کا فتویٰ سے متعلق مقدمہ میں مولانا محمد شبیب الحسینی کی پیشگی ضمانت کی عرضی مسترد

حیدرآباد (دکن فائلز) الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مسلم شیعہ عالم کی جانب سے دائر پیشگی ضمانت کی عرضی کو مسترد کر دیا جن پر شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین جتیندر نارائن سنگھ تیاگی عرف وسیم رضوی کی جانب سے ہندو مذہب اختیار کرنے کے بعد قتل کرنے کا فتویٰ جاری کرنے کا الزام ہے۔
لایو لا ویب سائٹ کے مطابق جسٹس سبھاش ودیارتھی کی بنچ نے مولانا سید محمد شبیب الحسینی کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی جنہوں نے مبینہ طور پر ایک یوٹیوب چینل پر کہا تھا کہ رضوی کو قتل کرنا واجب ہے۔
اس معاملے میں خود جتیندر نارائن سنگھ تیاگی نے 18 مارچ 2023 کو ایک ایف آئی آر درج کروائی تھی، جس میں الزام لگایا تھا کہ شیعہ عالم نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ جس طرح مصنف سلمان رشدی کا قتل ضروری ہے، اسی طرح رضوی کا قتل بھی ضروری ہے۔ جتیندر نارائن سنگھ تیاگی نے یہ بھی الزام لگایا کہ مولانا حسینی کی طرف سے ان کے خلاف فتویٰ جاری کرنا مسلمانوں کو ان کے خلاف بھڑکا کر انہیں قتل کرنے کی سازش ہے، کیونکہ انہوں نے سناتن دھرم (ہندو مذہب) کو قبول کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فتویٰ جاری ہونے اور یوٹیوب پر ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے بعد سے انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
جس کے بعد مولانا حسینی کے خلاف دفعہ 115، 120 بی، 153 اے، 153 بی، 386، 504، 505 (2)، 506 آئی پی سی اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، اس کیس میں پیشگی ضمانت کی درخواست کرتے ہوئے، مولانا نے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی اور ان کے وکیل نے دلیل دی کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں