حیدرآباد (دکن فائلز) گوشہ محل کے رکن اسمبلی ملعون ٹی راجہ سنگھ جو اپنی نفرت انگیز تقاریر کے لیے بدنام ہیں، اس بار انہوں نے مسلم خواتین سے متعلق متنازعہ بیان دیتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ بی جے پی سے بے دخل کئے گئے رکن اسمبلی نے تلنگانہ کے عادل آباد میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہندو خواتین پر زور دیا کہ وہ مسلم خواتین سے دوستی نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ جس کے ماتھے پر تلک ہے وہ میرا بھائی اور ہندو ہے۔ میں صرف ان لوگوں سے دوستی کروں گا جو تلک لگاتا ہے۔ ہماری خواتین کو بھی چاہئے کہ وہ برقعہ پوش خواتین سے دوستی نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہمیں آفتاب سے خطرہ تھا لیکن اب عائشہ کی طرف سے بھی خطرہ ہے۔ یہ وہ عائشہ ہیں جو [ہندو] خواتین کو آفتاب سے متعارف کروا رہی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں جھوٹے پروپگنڈہ کے تحت بنائی گئی متنازعہ فلم کیرالا اسٹوری کا حوالہ دیا۔
واضح رہے کہ ملعون راجہ سنگھ کو گذشتہ اگست میں اسلام کے خلاف متنازعہ ریمارکس کرنے کی پاداش میں بی جے پی معطل کردیا گیا تھا اور اسے گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزم راجہ سنگھ 75 دن جیل میں رہا۔ تاہم بعد میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے اسے مشروط ضمانت دی اور یہ تاکید کی گئی کہ کسی بھی مذہب کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر نہ کریں اور توہین آمیز سوشل میڈیا پوسٹس سے بھی باز رہنے کی ہدایت دی گئی، لیکن ان سب کے باوجود وہ مسلسل فرقہ وارانہ تقریروں میں مصروف ہے۔


