مہاراشٹر میں ٹیپوسلطان کی یادگار پر چلا بلڈوزر

مہاراشٹر کے مشہور شہر دھولے کی ایک شاہراہ پر واقع ٹیپو سلطان کی ایک یادگار کو بلڈوز کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی ہندو تنظیموں کی جانب سے شکایت کے بعد مبینہ طور پر غیرقانونی یادگار کو چوراہے سے ہٹادیا گیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی یووا مورچہ نے انتظامیہ سے شکایت کی تھی کہ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے مقامی رکن اسمبلی شاہ فاروق انور نے غیر قانونی طور پر ٹیپو سلطان کی یادگار دھولے چوک میں سڑک کے بیچ میں تعمیر کی ہے۔ ہندو تنظیموں کی جانب سے شکایت موصول ہونے کے بعد یادگار پر فوری طور پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔
بی جے وائی ایم کے ارکان نے مہراشٹرا کے وزیر داخلہ و نائب وزیراعلی دیویندر فڈنویس کو بھی خط لکھ کر اس یادگار کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یادگار پر بلڈوزر چلنے کے بعد علاقہ میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔
ضلع کلکٹر جلاج شرما نے بتایا کہ شہر کے چوراہے پر تعمیر کی گئی یادگار کو ٹھیکیدار نے خود ہٹا دیا تھا جبکہ اس تنازعہ کو حل کرنے میں رکن اسمبلی شاہ فاروق انور نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس معاملہ پر پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجے برکند نے کہا کہ ٹیپو سلطان کی یادگار کو بنانے والے ٹھیکیدار نے خود ہٹا دیا کیونکہ ٹیپو سلطان کی یادگار کی تعمیر بغیر کسی قانونی اجازت کے کی گئی تھی۔ ایس پی نے مقامی لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں