(دکن فائلز ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش میں جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں ویسے ویسے فرقہ پرستی کا زہر گھولنے میں شدت پیدا کی جارہی ہے۔ کچھ ہندو تنظیموں کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات دیے جارہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول تیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کے جبل پور شہر میں سخت گیر ہندو تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔ ہندو دھرم سینا نے اعلان کیا ہے کہ ’اگر کوئی ہندو نوجوان کسی مسلم لڑکی کو بھگاکر اس کے ساتھ شادی کرتا ہے تو اسے 11 ہزار روپے کا انعام دیا جائے گا۔
ہندو دھرم سینا کے صدر یوگیش اگروال نے کہا کہ مسلم لڑکی سے ہندو نوجوان محبت کی شادی کرتا ہے تو اس کی مدد کی جائے گی۔ انہوں نے مسلم نوجوانوں پر مبینہ لو جہاد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہماری ہندو بیٹیوں کو پھنسا رہے ہیں اور مذہب تبدیل کرکے شادی کررہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہا کیا کہ ہندو معاشرے میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔
یوگیش اگروال نے اشتعال انگیز بیان میں کہا کہ جو ہندو نوجوان مسلم لڑکیوں کو بھگا کر لائے گا اور اس سے شادی کرے گا، اس کو ہندو دھرم سینا نقد انعام کے طور پر 11 ہزار روپے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہندو بیٹیوں کو بچاو اور مسلم بیٹیوں کو بھگا کر لے آو۔
ہندو دھرم سینا کے اشتعال انگیز بیان پر مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔


