مہاراشٹرا کے اسکول میں اسمبلی کے دوران لاوڈاسپیکر پر اذان لگانے پر ہندو تنظیموں کا ہنگامہ، ایک استاد معطل

ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں سے جڑی ہر چیز پر تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ماحول کو مسلمانوں کے خلاف بنایا جارہا ہے۔ فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے چھوٹی سے چھوٹی بات پر مسلمانوں کے خلاف خوب زہر اگلا جارہا ہے اور دوسرے اقوام میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آج مہاراشٹرا میں اذان کو لیکر خوب ہنگامہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسکول کی اسمبلی میں دیگر مذاہب کے کچھ گیت لگائے گئے اور اسی دوران اذان بھی سنائی گئی جس کے بعد کچھ ہندو تنظیموں کی جانب سے خوب ہنگامہ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق ممبئی کے مضافاتی علاقے کاندیولی میں واقع ایک اسکول میں مبینہ طور پر صبح کی اسمبلی میں لاؤڈ اسپیکر پر ’اذان‘ سنائی گئی۔ بعدازاں طلبہ کے والدین اور کچھ سیاسی و ہندو تنظیموں کے کارکن اسکول کے باہر جمع ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران بی جے پی کے رکن اسمبلی نے اسکول انتظامیہ پر کئی بے بنیاد الزامات عائد کئے۔

پولیس کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اس معاملہ میں تحقیقات کی جارہی ہے تاہم ابی کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس استاد نے اذان لگائی تھی اسے اسکول انتظامیہ نے معطل کردیا ہے۔ اسکول پرنسپل نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ بچوں کو مذہبی ہم آہنگی اور سماجی رواداری سکھانے کے لئے اسکول میں دیگر مذاہب کی ریکارڈنگ کے علاوہ اذان کو بھی لاوڈاسپیکر پر لگایا گیا۔ اسمبلی میں جماعت 4 سے 10 تک کے طلبہ شریک تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسکول میں سرسوتی پوجا، گنپتی پوجا اور نوراتری پوجا بھی منعقد کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں