’یہاں پر صرف ہندو آسکتا ہے‘، گنگا گھاٹ پر سیر و تفریح کےلئے آئے مسلم خاندان کو فرقہ پرستوں نے جانے کےلئے مجبور کردیا! (ویڈیو دیکھیں)

(دکن فائلز ڈاٹ کام) آئے دن ملک بھر میں فرقہ وارانہ منافرت کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کچھ شدت پسند لوگ ملک میں ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کررہے اور مسلمانوں کے خلاف اپنی دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔
حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوجوان مبینہ طور پر ایک مسلم خاندان کو گنگا گھاٹ سے بھگارہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ تم مسلمان ہے، تمہیں یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے، یہاں صرف ہندو ہی آسکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ ویڈیو ہریدوار کے مشہور مہاراجہ اگراسین گھاٹ کا ہے جہاں ایک ہندو نوجوان نے مسلم خاندان کے ارکان کی انتہائی تذلیل کی اور انہیں صرف اس لئے گھاٹ سے چلے جانے کو کہاں کیونکہ وہ مسلمان ہے۔ ہندو نوجوان کے مطابق اس گھاٹ پر صرف ہندو ہی آسکتے ہیں۔ مسلم خاندان سیر و تفریح کےلئے گنگا گھاٹ پر آیا تھا لیکن اسے یہاں سے کچھ فرقہ پرست نوجوان نے جانے کےلئے مجبور کردیا۔


سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سواتنتر کمار نے بتایا کہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد واقعہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے سرکل انسپکٹر جوہی کو اس معاملہ میں تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بارے میں تفصیلات جمع کی جارہی ہے اور اس میں ملوث نوجوانوں اور مسلم خاندان کے ارکان کی شناخت کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے بعد قانونی کے مطابق کاروائی کی جائے گی۔
ایک اور اطلاع میں بتایا گیا کہ قواعد کے مطابق ہریدوار اور کنکھل تھانے کے علاقے میں غیر ہندو مستقل طور پر رہائش نہیں کر سکتے اور ہر کی پوڑی علاقے میں غیر ہندوؤں کا داخلہ بھی ممنوع ہے لیکن مہاراجہ اگرسین گھاٹ پر جو جوالا پور کوتوالی کے تحت آتا ہے وہاں کسی کے بھی نقل و حرکت اور گنگا میں نہانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

بعدازاں ویڈیو وائرل ہونے کے بعد جب معاملہ طول پکڑنے لگا تو مسلم خاندان پر گنگا میں تھوکنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے تاکہ اس فرقہ پرست واقعہ کو الگ ہی رنگ دے دیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 45 سکنڈ کے وائرل ویڈیو میں کہیں بھی ہندو نوجوان نے مسلم خاندان کے ارکان پر گنگا میں تھوکنے کی بات نہیں کی تاہم اس نے صرف یہ کہا کہ ’غیرہندوؤں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے، یہاں سے چلے جاؤں، ورنہ اچھا نہیں ہوگا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں