کاما ریڈی: اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کے مستحقانہ استعمال کے لیے قوم میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے ملک بھر میں وقف ترمیمی بل کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت کی جانب سے اس بل کی منظوری نے ملت کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف ترمیمی بل کی سخت مزاحمت کی تھی تاہم موجودہ قانونی تقاضوں کے پیش نظر بورڈ نے اب ملک بھر کی تمام اوقافی جائیدادوں کے امید پورٹل پر اندراج کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر مسجد نور کاماریڈی میں اوقافی جائیدادوں کے اندراج کا عمل بورڈ کی ہدایت کے مطابق حافظ محمد فہیم الدین منیری کنوینر ضلع کاماریڈی مسلم پرسنلا (صدر جمعیت العلماء ضلع کاما ریڈی)، سید انور احمد (جائنٹ کنوینر مسلم پرسنلا کاماریڈی نائب صدر مدینہ مسجد)، حافظ محمد یوسف حلیمی انور (صدر مسجد نور) جائنٹ کنوینر مسلم پرسنلا کمیٹی کاماریڈی محمد جاوید علی (صدر مسجد محمود)،اور الحاج سید عظمت علی (سیکریٹری مجلس تحفظ ختم نبوت) کی نگرانی میں شروع کیا گیا اس موقع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مولانا عبدالعظیم صاحب (کنوینر مسلم پرسنل لا بورڈ نظام آباد) اور مولانا شیخ حیدر قاسمی (کنوینر جوائنٹ کمیٹی) شریک رہے۔
علماء و مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ اوقاف ملت کا عظیم سرمایہ ہیں جن کے تحفظ میں غفلت قوم کے دینی و اجتماعی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے انہوں نے کہا کہ مساجد مقابر، درگاہیں عاشور خانے اور مذہبی ادارے ہماری شناخت کا حصہ ہیں۔
ان کا اندراج اور قانونی تحفظ ناگزیر ہو چکا ہے مولانا عبدالعظیم صاحب نے کہا کہ ملت کے تمام طبقات خصوصاً سیاسی و مذہبی قائدین، ائمہ و خطباء اور مساجد کے صدور اس سلسلے میں رہنمائی اور عملی اقدام کریں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے اندراج میں لاپرواہی سے قوم کے اثاثے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
لہٰذا ہر ذمہ دار شخص اپنے علاقے کے اوقاف کا فوری اندراج امید پورٹل پر یقینی بنائے اجتماع کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے متحدہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی، تاکہ ملت کا یہ قیمتی ورثہ آئندہ نسلوں تک محفوظ رہے۔
اس موقع پر مولانا نظر الحق قاسمی نگران مجلس تحفظ ختم نبوت کاماریڈی وصدر منڈل جمعیت علماء کاماریڈی محمد آصف صاحب صدر جمعیت علماء منڈل دوم کنڈہ کے علاوہ دیگر ذمہ داران موجود تھے۔


