حیدرآباد (دکن فائلز) ایران نے اہم بحری گذرگاہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق نیا قانون متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اسرائیلی سے تعلق رکھنے والے جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت اسرائیلی جہازوں کو اس وقت تک آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہ جنگی ہرجانہ ادا نہ کریں۔ مزید برآں، دیگر ممالک کے جہازوں کو بھی ایران سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اس قانون کا مقصد خطے میں ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط بنانا اور حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دباؤ بڑھانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون نافذ ہوتا ہے تو عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔


