بھگت سنگھ کے خوابوں کی روشنی میں اے آئی وائی ایف کی تاریخ

بھارت کی نوجوان تحریک کی تاریخ میں All India Youth Federation (AIYF) کا قیام ایک اہم سنگِ میل ہے۔ سن 1959 سے پہلے ملک بھر میں نوجوانوں کی تنظیمیں ریاستی، ضلعی اور علاقائی سطح پر الگ الگ کام کر رہی تھیں۔ اگرچہ ان کے درمیان کچھ حد تک رابطہ موجود تھا، مگر ایک مضبوط قومی پلیٹ فارم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ مشترکہ مقاصد اور نظریات کے تحت نوجوانوں کو ایک پرچم تلے متحد کرنے کی ضرورت وقت کے ساتھ واضح ہوتی گئی۔

اس ضرورت کو سب سے پہلے محسوس کرنے والے انقلابی کمیونسٹ رہنما Guru Radha Kishan تھے، جو دہلی میونسپل کارپوریشن کے کم عمر ترین کونسلر بھی رہے۔ انہوں نے دہلی میں پہلی میٹنگ منعقد کرنے کا اقدام کیا، جو آگے چل کر ایک عظیم قومی تحریک کی بنیاد بنی۔

28 اپریل سے 3 مئی 1959 تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والی بانی کانفرنس میں 11 ریاستوں سے 250 سے زائد مندوبین اور مبصرین نے شرکت کی۔ اس چھ روزہ اجلاس میں باضابطہ طور پر اے آئی وائی ایف کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ کانفرنس میں سوشلسٹ نظریات کے فروغ اور نوجوانوں کو سماجی تبدیلی کے لیے منظم کرنے کا عزم کیا گیا۔

اسی کے ساتھ عالمی نوجوان اتحاد کی نمایاں تنظیم World Federation of Democratic Youth (WFDY) سے الحاق کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ عالمی سطح پر نوجوانوں کی جدوجہد کا حصہ بنا جا سکے۔

اس کانفرنس میں معروف اداکار Balraj Sahani کو پہلا صدر منتخب کیا گیا، جبکہ شاردہ مترا جنرل سیکریٹری اور P. K. Vasudevan Nair کو ایگزیکٹو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ 121 ارکان پر مشتمل کونسل تشکیل دی گئی، جس میں سے 37 رکنی ایگزیکٹو کمیٹی منتخب کی گئی۔

بھگت سنگھ کے خواب – اے آئی وائی ایف کا راستہ
اے آئی وائی ایف کی بنیاد دراصل عظیم انقلابی Bhagat Singh کے خوابوں کی عکاس ہے۔ بھگت سنگھ نوجوانوں کو صرف محب وطن ہی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کے رہنما کے طور پر دیکھتے تھے۔ ان کا خواب ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں ناانصافی، استحصال اور عدم مساوات کا خاتمہ ہو۔

اے آئی وائی ایف اسی وژن کو حقیقت میں بدلنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے—نوجوانوں کو بیدار کرنا، منظم کرنا اور ان کی طاقت کو ایک بہتر سماج کی تعمیر کے لیے استعمال کرنا۔

اے آئی وائی ایف کا 67واں یومِ تاسیس – نوجوان جدوجہد کی نئی سمت
آج جب ہم اے آئی وائی ایف کا 67واں یومِ تاسیس منا رہے ہیں، یہ صرف ایک جشن نہیں بلکہ نوجوان تحریک کی جدوجہد کی تاریخ کو یاد کرنے اور مستقبل کی ذمہ داریوں کو قبول کرنے کا موقع ہے۔ آزادی کے بعد نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اے آئی وائی ایف مسلسل جدوجہد کرتی آئی ہے۔

گزشتہ چھ دہائیوں میں اے آئی وائی ایف نے نوجوانوں کے حقوق کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ بے روزگاری، تعلیمی عدم مساوات، صحت کی سہولیات کی کمی اور سماجی ناانصافیاں—یہ سب نوجوانوں کے لیے بڑے چیلنجز ہیں۔ ایسے حالات میں اے آئی وائی ایف کی جدوجہد صرف مزاحمت تک محدود نہیں بلکہ متبادل پالیسیوں کی پیشکش بھی کرتی ہے۔

آج ملک کو سنگین معاشی اور سماجی بحرانوں کا سامنا ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ، تعلیم کی نجکاری، جمہوری حقوق پر حملے اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

تلنگانہ میں بھی نوجوان کئی مسائل کا شکار ہیں، جیسے سرکاری بھرتیوں میں تاخیر، طلبہ پر مالی بوجھ اور دیہی علاقوں میں مواقع کی کمی۔ ایسے حالات میں اے آئی وائی ایف تلنگانہ ریاستی کمیٹی مسلسل جدوجہد کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کر رہی ہے۔

اے آئی وائی ایف صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک نظریہ اور ایک تبدیلی کی طاقت ہے۔ نوجوانوں کو منظم کر کے ان کی توانائی کو سماجی تبدیلی کی طرف موڑنا ہمارا مقصد ہے۔

آج کی ذمہ داری
اس تاریخی پس منظر سے ہمیں ایک واضح پیغام ملتا ہے: نوجوانوں کا اتحاد ہی ملک کی طاقت ہے اور مسلسل جدوجہد ہی حقوق کی ضمانت ہے۔

ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر تعلیمی ادارے میں نوجوانوں کو منظم کرنا ہوگا۔ عوامی مسائل پر آواز اٹھانا ہوگی اور انصاف کے لیے جدوجہد کو تیز کرنا ہوگا۔

ہمارا نعرہ
روزگار کا حق حاصل کرنا ہے!
عوامی تعلیم کا تحفظ کرنا ہے!
جمہوریت کو بچانا ہے!

مضبوط اے آئی وائی ایف – مضبوط بھارت!
نوجوان اتحاد زندہ باد! اے آئی وائی ایف زندہ باد!

ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری ایڈوکیٹ
ریاستی صدر، تلنگانہ – قومی سیکریٹری
All India Youth Federation (AIYF)

اپنا تبصرہ بھیجیں